500 اور 1000 کے نوٹ تبدیل کرنے کا آج آخری دن

وزیراعظم نریندر مودی نے آٹھ نومبر کی رات کو اچانک ایک ہزار اور پانچ سو روپے کے کرنسی نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے اب تک مستقل بینکوں کے باہر افرا تفری کا ماحول رہا ہے۔

حکومت نے اس کے لیے 50 روز کی مہلت دی تھی جو آج پوری ہورہی ہے۔

کرنسی نوٹوں پر پابندی کے بعد حکومت ایسے نوٹوں کو بینک کے کھاتوں میں جمع کرانے یا انھیں تبدیل کرانے کے لیے وقتاً فوقتاً اصول و ضوابط مرتب کرتی رہی ہے۔

سب سے اہم پابندی بینک سے پیسے نکالنے کی حد پر تھی جس کی وجہ سے گذشتہ تقریباً پچاس روز سے اے ٹی ایم کے باہر لمبی قطاریں لگتی رہی ہیں۔

اب سب کی نظریں اس بات ہے پر لگی ہیں کہ اب حکومت کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ کیا پیسوں سے متعلق پابندیاں برقرار رہیں گی یا پھر اس میں نرمی برتی جائےگی۔ کیا پیسے نکالنے کی معینہ حد میں اضافہ کیا جائے گا یا پھر اے ٹی ایم سے اب بھی صرف دو ہزار روپے ہی نکل سکیں گے۔

انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کی طرف سے 50 روزہ معیاد کے اختتام کے موقع پر نئے اعلانات کی توقع ہے اور غالب امکان اس بات کا ہے کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی سنیچر کی رات کو قوم سے خطاب کریں گے۔

حکومت نے جب کرنسی نوٹوں پر پابندی لگائی تھی تو اس نے کہا تھا کہ اس کا مقصد کالے دھن پر قابو پانا ہے لیکن بعد میں اس نے کیش لیس اکانومی کا نعرہ دیا اور کہا کہ اس سے ٹیکس کی اصولی بہتر ہوسکے گی۔

لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے اس قدم کی یہ کہہ کر سخت مخالفت کرتی رہی ہیں کہ اس سے کسان اور غریب لوگوں کو نقصان پہنچے گا۔

اس مسئلے پر حزب اختلاف کی جماعتیں متحد ہوگئی ہیں اور انھوں نے اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بنگلا دیش, نےپاکستانی, شہریوں کے لیے ویزے, کا اجرا روک, دیا

بنگلا دیش نےپاکستانی شہریوں کے لیے ویزے کا اجرا روک دیا

ڈھاکا: بنگلادیش کے ہائی کمشنر نے گزشتہ چار ماہ سے پاکستانی حکومت کی جانب سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے