اسلام آباد سے خیبرپختونخوا تک تمام روڈ کھول دیے جائیں

اسلام آباد سے خیبرپختونخوا تک تمام روڈ کھول دیے جائیں

پشاور: چیف جسٹس وقار احمد سیٹھی اور جسٹس احمد علی پر مشتمل بینچ نے ریمارکس دیے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی پریس کانفرنس کو نشر کرنے پر پابندی آئین کی شق 19 اور پیمرا آرڈیننس کی شق 27 کے خلاف ہے

جے یو آئی کے رہنما عبید اللہ انور کی جانب سے پیش کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’پیمرا نے مولانا فضل الرحمٰن کی پریس کانفرنس کو نشر نہ کرنے کے لیے چینلز کو زبانی ہدایت جاری کی تھیں‘۔
تفصیلی فیصلے میں بینچ نے پیمرا کو ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنائے کہ نجی چینلز اپوزیشن کی سرگرمیوں کو بھی نشرکرے جس طرح وہ حکومت کی کرتے ہیں۔
بینچ نے کہا کہ ’آئین کا شق 19 ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے‘۔
بینچ نے 29 اکتوبر کو دو پٹیشن قبول کی تھیں۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق بینچ نے صوبائی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں کنٹینرز لگا کر روڈ بند کرنے کو غیرقانونی قرار دیا۔
عدالت نے ہدایت دی کہ اسلام آباد سے خیبرپختونخوا تک تمام روڈ کھول دیے جائیں۔
درخواست گزار کو ہدایت دی کہ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کو بونڈ کے ذریعے یقین دلایا جائے کہ آزادی مارچ کے شرکا پر امن رہیں گے اور عوامی اور حکومت املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
عدالتی فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 16،15 اور 17 کا حوالہ دیا گیا جن میں آزادی سے نقل و حرکت کرنے، لوگوں کے پرامن اجتماع اور اتحاد کی تشکیل کی ضمانت دی گئی۔
اس سے قبل وفاقی حکومت کی جانب سے تنطیم ’انصار الاسلام‘ پر پابندی کے معاملے پر جے یو آئی نے ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے درخواست موقف اختیار کیا تھا کہ ’حکومت جے یو آئی کے مطالبات سے خوفزدہ ہو کر جماعت کے خلاف مہم چلارہی ہے اور مختلف طریقوں سے آواز دبانے اور آزادی مارچ کے آغاز سے قبل ہی اسے روکنے کی کوشش کررہی ہے‘۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ حکومت محکمہ قومی انسداد دشت گردی کے ذریعے حملوں کے خطرات سے متعلق الرٹ جاری کرکے عوام میں افراتفری پھیلا کر آزادی مارچ میں شرکت سے روکنے کی کوششیں بھی کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

انسپکٹر جنرل آف پولیس کو 3 روز کے اندر ان حراستی مراکز کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت

انسپکٹر جنرل آف پولیس کو 3 روز کے اندر ان حراستی مراکز کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت

پشاور: ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمدسیٹھ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے