بلاول بھٹو کا مطالبات منوانے کیلئے لانگ مارچ کی تیاری کا اعلان

گڑھی خدا بخش: بے نظیر بھٹو کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کچھ لوگ صرف پیدا ہوتے ہیں مرتے ہیں لیکن ان کی سوچ زندہ رہتی ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو آج بھی زندہ ہیں۔ پی پی جس مقصد کیلئے بنی تھی کیا وہ پورا ہو گیا؟۔ ان کا مزید کہنا تھا شہید بے نظیر بھٹو نے کبھی ہار نہیں مانی۔ شہید محترمہ نے ثابت کر دیا ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔ بی بی شہید ہر ظلم کے سامنے پہاڑ کی طرح کھڑی رہی۔ بلاول بھٹو نے کہا بی بی شہید نے جس سوچ کیخلاف جنگ لڑی تھی وہ آج بھی موجود ہے۔ دہشت گردی پر مکمل قابو نہیں پایا گیا۔ بینظیر شہید کے وژن کی جتنی ضرورت کل تھی اتنی ہی آج ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا مجھے اپنی اور پارٹی کی مشکلات کا علم ہے محترمہ کی شہادت کے بعد ملک کو مشکلات نے گھیرا تھا اور ملک ٹوٹنے کا خطرہ تھا لیکن سابق صدر آصف زرداری نے کھپے، کھپے کا نعرہ لگا کر پارٹی اور ملک کو بچایا۔ پیپلز پارٹی کو نئے انداز میں منظم کرنا چاہتا ہوں۔

بلاول نے کہا ن لیگ ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ ملکی مفادات کو لاحق خطروں پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ میرے تمام خدشات درست ثابت ہو گئے ہیں جبکہ وزیر داخلہ مستعفیٰ ہونے کے بجائے اداروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ (ن) لیگ کو ہمیشہ باتیں دیر سے سمجھ آتی ہیں۔ وزیر داخلہ کالعدم تنظیموں سے ملاقات اور جلسوں کی اجازت دیتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان کیا کرتی ہے۔ دیکھیں گے جو ہمارے ساتھ یا پھر ان لاڈلوں کیساتھ کوئی اور سلوک ہو گا۔ بلاول بھٹو نے کہا حکومت عوام کے بجائے دہشتگردوں کو تحفظ دے رہی ہے۔ میاں صاحب اگر کچھ ہوا تو آپ تو بھاگ جائیں گے عوام نے یہی رہنا ہے۔ دوسری جانب دنیا ہمیں دہشتگرد قرار دینے پر تلی ہے آپ ذاتی تعلق نبھا رہے ہیں۔ محترم میاں صاحب آپ واقعی سادہ ہیں یا ہمیں بیوقوف سمجھتے ہیں۔ آپ کے تو اسکینڈل ہی اسکینڈل ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اپنے خطاب میں کہا کسی سے کہتے ہیں وزیراعظم کون ہوتا ہے تو جواب ملتا ہے پاناما شریف آپ نہ خود تماشا بنیں نہ نظام کو تماشا بنائیں۔ اگر احتساب بل کی منظوری میں رکاوٹ ڈالی تو احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم بل پاس کروا کے سہریم کورٹ میں جائیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا معیشت میں جمہوریت اور انصاف نہیں۔ پیپلز پارٹی جمہوری احتساب چاہتی ہے لیکن میاں صاحب نہیں مان رہے۔ ہرادارے کواپنا اپنا فریضہ انجام دینا ہو گا جبکہ عدلیہ کی تاریخ سب سے خوفناک ہے۔ کیا سوموٹوکی تلوار صرف ہمارے لیے ہے۔ اصغر خان کیس، بھٹو کے عدالتی قتل کا فیصلہ آج تک کیوں نہیں ہوا۔ عدلیہ نے ہمارے ساتھ کبھی انصاف نہیں کیا اب دیکھنا ہے پاکستان کیساتھ انصاف کرتے ہیں یا نہیں۔

بلاول نے وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میاں صاحب کیا آپ چاہتے ہیں کہ جو مرضی کرتے رہیں اور میں چپ رہوں؟۔ آپ کے وزرا دہشت گردوں کی مدد کریں توکیا میں چپ رہوں۔ آپ ملک کو عالمی تنہائی میں دھکیلنا چاہتے ہیں لیکن میں چپ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا بینظیر شہید کا ادھورا مشن پورا کرنے آیا ہوں ہر محاذ پر لڑوں گا۔ عوام کو حقوق دلاؤں گا، ملک کی خدمت کروں گا۔ بلاول نے کہا ملک بھر میں سیاسی لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کر دیں ہیں۔ مطالبات منوانے کیلئے پورے ملک میں دورے کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں

حضرت عبداللہ شاہ غازی کے 1289 ویں عرس کی 3 روزہ تقریبات شروع

حضرت عبداللہ شاہ غازی کے 1289 ویں عرس کی 3 روزہ تقریبات شروع

کراچی: عرس کی تقریبات کا آغاز رات گئے سے شروع ہوئی، جب ان کے مزار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے