اسپتالوں میں احتجاجی ہڑتال 28 ویں روز بھی ختم نہ ہوسکی

اسپتالوں میں احتجاجی ہڑتال 28 ویں روز بھی ختم نہ ہوسکی

پشاور: ڈاکٹروں کی ہڑتال 28 ویں روز میں داخل ہوگئی۔ خیبرپختونخوا میں حکومت اور ڈاکٹروں کے مابین مذاکرات کے باوجود ڈیڈ لاک برقرار ہے

ڈاکٹروں و طبی عملے کی ہڑتال کے باعث دیگر طبی سروسز بھی تعطل کا شکار ہیں جس کے باعث اسپتالوں میں آنے والے مریض دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے ڈسٹرکٹ وریجنل ہیلتھ اتھارٹیز کے قانون کو نافذ کرنے کا فیصلہ برقراررکھا ہے۔ جب کہ ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا ہے۔
گرینڈ ہیلتھ الائنس نے لانگ مارچ کی تیاریاں زور وشور سے شروع کردیں اور پنجاب اور وفاق کے گرینڈ ہیلتھ الائنس نے خیبرپختونخوا کے ڈاکٹروں کو بھی لانگ مارچ میں شرکت کا عندیہ دے دیاہے۔ صوبے کے بڑے اسپتالوں میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے عہدیداروں نے دورے کے دوران تمام ڈاکٹروں و طبی عملے کی تنظیموں کو 25 اکتوبر کے لانگ مارچ کے لئے منصوبہ بندی کو مکمل کرنے کی ہدایات جاری کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

انسپکٹر جنرل آف پولیس کو 3 روز کے اندر ان حراستی مراکز کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت

انسپکٹر جنرل آف پولیس کو 3 روز کے اندر ان حراستی مراکز کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت

پشاور: ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمدسیٹھ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے