یورپین یونین نے زور دیا ہے کہ فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی راہ اپنائیں

یورپین یونین نے زور دیا ہے کہ فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی راہ اپنائیں

برسلز:افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہوچکے تھے کہ اچانک صدر ٹرمپ نے بات چیت منسوخ کردی

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات منسوخ کیے جانے کے بعد افغانستان میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
موجودہ سنگین صورت حال کے باعث یورپین یونین نے زور دیا ہے کہ فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی راہ اپنائیں، اور نئے سرے سے بات چیت کا آغاز کریں۔
یورپی یونین کے سفیر رولینڈ کوبیا کا کہنا تھا کہ مذاکرات تو ناکام ہوگئے لیکن اب جنگ بندی پر غور کرنا چاہیے تاکہ دوبارہ بات چیت کے لیے راہیں ہموار ہوسکیں۔
رولینڈ کوبیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ طالبان سے بات چیت کے لیے اہم کردار ادا کریں۔
امريکی وزير دفاع مارک ايسپر افغانستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ کابل میں افغان صدر اشرف غنی سمیت دیگر حکومتی اہلکاروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں جس کا مقصد خطے میں قیام امن کے لیے معاہدہ طے کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ٹرمپ کو لگام نہ ڈالی گئی تو لوگ مریں گے: نکی ہیلی

ٹرمپ کو لگام نہ ڈالی گئی تو لوگ مریں گے: نکی ہیلی

نکی ہیلی نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے دو اہم مشیروں نے ان سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے