معاشرے میں چیونٹی کو ایک سست رفتار کیرا سمجھا جاتا ہے

معاشرے میں چیونٹی کو ایک سست رفتار کیرا سمجھا جاتا ہے

جرمنی: پاکستانی معاشرے میں چیونٹی کو ایک سست رفتار کیرا سمجھا جاتا ہے، یہاں تک کہ “چیونٹی کی چال چلنا” بطور محاورہ باتوں میں استعمال ہوتا ہے

لیکن دنیا میں ایک ایسی چیونٹی بھی پائی جاتی ہے جس کے چلنے کی رفتار سن کر آپ ہکا بکا رہ جائیں گے۔
دی مرر کے مطابق “صحارن سلور” (Saharan Silver) نام کی چیونٹی 360 میل فی گھنٹہ (579.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے، یہ رفتار 3.2 کلومیٹر فی سیکنڈ بنتی ہے۔
سائنس دانوں نے پہلے بھی اس چیونٹی کی رفتار ریکارڈ کی تھی، تاہم اس بار انتہائی تفصیل کے ساتھ اسے دوڑتے ہوئے عکس بند گیا ہے اور پھر اس ویڈیو کے ذریعے اس کی رفتار کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور اولم یونیورسٹی جرمنی کے پروفیسر ہیرالڈ وولف کا کہنا تھا کہ یہ چیونٹی صحرائے صحارا میں پائی جاتی ہے اور 6 پیر بیک وقت اٹھا کر جمپ لگا کر دوڑتی ہے۔ صحرائے صحارا میں پائی جانے والی چیونٹیوں کی تمام نسلوں میں سے صحارن سلور بہت خاص نسل ہے اور یہ دنیا کی تیزترین دوڑنے والی چیونٹی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ملکہ برطانیہ نے پرنس اینڈریو کو شاہی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا

ملکہ برطانیہ نے پرنس اینڈریو کو شاہی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا

ملکہ برطانیہ نے پرنس اینڈریو کو شاہی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا۔ برطانوی شاہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے