مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

اسلام آباد:وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے علما میں اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی)، متحدہ علما بورڈ، پنجاب اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اراکین شامل

حکومتی اداروں اور اعلیٰ عہدوں پر موجود علما و مشائخ سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’ یہ اجلاس مولانا فضل الرحمٰن کے احتجاجی مارچ سے متعلق حمایت کے لیے نہیں بلایا گیا، میں نے کئی احتجاج دیکھے ہیں اور یہاں تک کہ 126 روز تک جاری رہنے والے دھرنے کی قیادت بھی کی‘۔
اجلاس کا بنیادی مقصد کا ’ ریاست مدینہ کی اصل فطرت پر تبادلہ خیال ‘ کرنا تھا۔
وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’ میں ریاست مدینہ کے ماڈل پر پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانا چاہتا ہوں اور یہی میری زندگی کا مقصد ہے‘۔
عمران خان نے کہا کہ ’ میں سابق حکمرانوں کی طرح سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان کا نام استعمال نہیں کررہا‘۔
ملک میں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں خاص طور پر جن مسائل کا قوم کو سامنا ہے اس میں علمائے کرام کا خاص کردار ہے‘۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ وہ مذہبی علما سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان سے تعاون طلب کیا کہ تاکہ حکومت اپنے مقاصد حاصل کرسکے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان، یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا دوبارہ رکن منتخب ہوگیا

پاکستان، یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا دوبارہ رکن منتخب ہوگیا

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے سماجی رابطے کی ویب پر ٹوئٹ کرتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے