سعودی عرب میں ٹریفک حادثہ، پاکستانی شہریوں سمیت 35 عمرہ زائرین شہید

سعودی عرب میں ٹریفک حادثہ، پاکستانی شہریوں سمیت 35 عمرہ زائرین شہید

مدینہ منورہ: 

سعودی عرب میں بس اور ٹرک کے درمیان تصادم کے نتیجے میں عمرہ کے لیے آئے 35 غیر ملکی زائرین شہید اور 4 زخمی ہوگئے جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق مدینہ منورہ کے نواحی گاؤں الاخل کے قریب حجرہ روڈ پر ایک بس مخالف سمت سے آنے والے لوڈر سے ٹکرا گئی جس کے بعد میں اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

بس میں 39 غیر ملکی مسافر سوار تھے جن کا تعلق عرب اور ایشیائی ممالک سے تھا اور وہ مدینہ جارہے تھے۔ حادثے میں متعدد افراد موقع پر ہی جاں بحق اور کئی شدید زخمی ہوگئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ادارے فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچے اور لاشوں و زخمیوں کو الحمنا اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 35 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی۔ 4 زخمیوں کی حالت بھی تشویش ناک بھی بتائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سعودی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ مدینہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز نے مرحومین کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خوفناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے سعودی حکومت سے بات چیت جاری ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر کو زخمیوں کے فوری علاج کے لیے ہدایات جاری کردی گئی ہیں، جاں بحق پاکستانی زائرین کی میتوں کی پاکستان منتقلی اور زخمیوں کے بہتر علاج کے لیے ہمارے سفارت خانے کے لوگ سعودی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

حادثے میں کئی پاکستانی شہری شامل ہیں، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افسوس ناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں پاکستانی باشندے بھی شامل ہیں جب کہ زخمی ہونے والے افراد ایک پاکستانی شہری اکبر شامل ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان سفارتی مشن کے تین حکام سعودی حکام سے رابطے کے لیے تعینات کردیے ہیں حادثے میں کتنے پاکستانی جاں بحق ہوئے تفصیلات جلد سامنے آجائیں گی۔

ترکی نے امریکا سے مذاکرات کے بعد کردوں کے خلاف فوجی آپریشن روک دیا

یہ بھی پڑھیں

عہدے کا بے جا استعمال، مواخذہ شروع ٹرمپ پریشان

عہدے کا بے جا استعمال، مواخذہ شروع ٹرمپ پریشان

امریکی صدر ٹرمپ پر اپنے دائرہ کار سے تجاوز، عہدے کے بے جا استعمال اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے