عدالتی نظام پر لوگوں کا اعتماد ضروری ہے لیکن سائلین کا اس نظام سے بتدریج اعتماد ختم ہورہا ہے

عدالتی نظام پر لوگوں کا اعتماد ضروری ہے لیکن سائلین کا اس نظام سے بتدریج اعتماد ختم ہورہا ہے

اسلام آباد: جسٹس عامرفاروق کا کہنا تھا کہ ’چیمبر کا حصہ بننے والے نئے وکیل کو چاہیے کہ وہ ناصرف قانون کی پریکٹس کرے بلکہ اخلاقات بھی سیکھے، جس طرح وکلا عدالت اور سائلین کے ساتھ معاملات رکھتے ہیں، یہ پریکٹس کا حصہ نہیں‘

’ہم اخلاقیات اپنے گھر، چیمبر اور کمرہ عدالت میں سیکھتے ہیں
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نے کہا کہ انصاف کے منتظر سائلین سے وکلا فیس وصول کرتے ہیں اس لیے انہیں گمراہ نہ کیا جائے اور وکلا کو عدالتی وقت بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ عدالتوں کے اخراجات عوام کے پیسوں سے پورے ہوتے ہیں۔
مغربی ممالک کے عدالتی نظام سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وکلا کو اپنے مقدمے میں دلائل مکمل کرنے کے لیے مخصوص وقت دیا جاتا ہے اور اسی متعین وقت کے اندر ہی تمام مراحل کو یقینی بنانا پڑتا ہے ورنہ عدالتی وقت برباد کرنے پر بھاری جرمانہ عائد ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں ایسا کوئی نظام نہیں ہے‘۔
کیس مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وکلا کو کیس ڈائری مرتب کرنی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں وکلا کو ایک دن میں متعدد کیس کا سامنا ہوتا ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔
جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ جونیئر وکیل مقدمے کی سماعت ملتوی کراتے ہیں اور سینئر قونصل دوسری عدالتوں میں مصرف ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد: اجلاس میں نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کا آئینی وقانونی طور پر جائزہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے