زیارت ریزیڈینسی‘ پر ہونے والے دہشت گرد حملہ کیس سے 15 ملزمان بری

زیارت ریزیڈینسی‘ پر ہونے والے دہشت گرد حملہ کیس سے 15 ملزمان بری

کوئٹہ: مقدمے میں نامزد نوابزادہ حربیار مری اور دیگر 14 ملزمان کو اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی ان کے خلاف اب تک مقدمے کی کارروائی کی جاسکی

مقدمے سے بری ہونے والے 15 میں سے صرف 2 ملزمان قید تھے جبکہ 13 ملزمان پہلے ہی ضمانت پر رہا تھے۔
مقدمے میں نامزد نوابزادہ حربیار مری اور دیگر 14 ملزمان کو اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی ان کے خلاف اب تک مقدمے کی کارروائی کی جاسکی۔
ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے15 جون 2013کو قائداعظم ریذیڈنسی زیارت کو بموں کے نشانہ بنایا جس سے عمارت کا ایک حصہ مکمل تباہ ہو گیا تھا۔
سال 2013 میں 15 اور 16 جون کی درمیانی شب قائداعظم کی تاریخی رہائش گاہ پر دستی بموں کے حملے سے عمارت میں شدید آگ بھڑک اُٹھی تھی جس سے تاریخی قائداعظم ریزیڈینسی مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی۔
آزاد بلوچستان کے لیے کام کرنے والے گروپ بلوچستان لبریشن آرمی نے حملے کی رات ہی اس تاریخی عمارت پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سربراہی میں صوبائی حکومت نے زیارت ریزیڈینسی کو اس کی اصلی شکل و صورت میں دوبارہ تعمیر اور بحال کردیا تھا جس کا افتتاح 14 اگست 2014 کو کیا گیا تھا۔
قائداعظم ریزیڈنسی کی عمارت وادیٔ زیارت کے خوبصورت اور پُرفضا مقام پر واقع ہے، زیارت کوئٹہ سے تقریباً ایک سو بائیس کلو میٹر دور ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بلوچستان یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے عارضی طور پر عہدے سے دستبردار

بلوچستان یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے عارضی طور پر عہدے سے دستبردار

کوئٹہ: شفاف انکوائری کو یقینی بنانے اور یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر کی درخواست …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے