فریقین کے درمین راضی نامہ بو بھی جائے تو دہشت گردی کا جرم ناقابلِ راضی نامہ ہی رہے گا

فریقین کے درمین راضی نامہ بو بھی جائے تو دہشت گردی کا جرم ناقابلِ راضی نامہ ہی رہے گا

اسلام آباد: عدالت عظمیٰ کی جانب سے 27 صفحات پر مشتمل فیصلے میں اس بات کی رہنمائی کی گئی کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ناقابلِ راضی نامہ جرم سے کس طرح نمٹا جائے جبکہ اسی جرم کے ساتھ ایک قابلِ راضی نامہ جرم بھی کیا گیا ہو

دہشت گردی کے ناقابلِ راضی نامہ جرم کے ساتھ قابلِ راضی نامہ جرم کے اثرات کے حوالے سے متعدد سوالات کے جوابات بھی دیے اور مختلف سوالوں پر متعدد فیصلے دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے متعلق جوابات پہلے بھی دستیاب تھے لیکن علیحدہ علیحدہ موجود تھے۔
چانچہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ’تازہ حکم نامے میں ان تمام دستیاب حل کو جوڑنا ضروری تھا۔
فیصلے میں چیف جسٹس نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی کا ناقابلِ راضی نامہ جرم اسی کیس میں کیے گئے کسی بھی دوسرے قسم کے جرم سے مختلف نوعیت اور آزاد حیثیت کا حامل ہے۔
اگر منسلک جرم پر فریقین کے درمین راضی نامہ بو بھی جائے تو دہشت گردی کا جرم ناقابلِ راضی نامہ ہی رہے گا۔
اس حولے سے درپیش دوسرا سوال یہ تھا کہ فریقین کے درمیان ناقابلِ راضی نامہ جرم پر سمجھوتہ ہوجانے کی وجہ سے دہشت گردی کے جرم میں دی گئی سزا میں کمی ممکن ہے؟
جس کے جواب میں فیصلے میں کہا گیا کہ سزا میں کمی پر غور وہی عدالت کرسکتی ہے جہاں اس معاملے کی سماعت ہوئی ہو اس کو خود کار طریقے سے نافذ نہیں کیا جاسکتا۔
تیسرا سوال اس بارے میں تھا کہ کون سی عدالت ناقابلِ راضی نامہ جرم کی سزا میں کمی کرسکتی ہے جس کے جواب میں عدالت عظمیٰ نے وضاحت کی کہ مقدمے کے اختتام پر ٹرائل کورٹ بھی سزا میں کمی کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان، یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا دوبارہ رکن منتخب ہوگیا

پاکستان، یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا دوبارہ رکن منتخب ہوگیا

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے سماجی رابطے کی ویب پر ٹوئٹ کرتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے