غیرقانونی دولت چھپانے کےلیے متحدہ عرب امارات میںرہائش حاصل کرنے والے پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا حاصل کرنے کا دعویٰ

غیرقانونی دولت چھپانے کےلیے متحدہ عرب امارات میں رہائش حاصل کرنے والے پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا حاصل کرنے کا دعویٰ

اسلام آباد: دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ (ڈی ایل ڈی) سے پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا دبئی میں 8 سے 10 اکتوبر کےدوران ہونے والے 3 روزہ اجلاس کے موقع پر حاصل کیا گیا

اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی سیکریٹری برائے بین الاقوامی ٹیکسز ساجدہ کوثر نے کی۔
ایف بی آر کا انٹرنیشنل ٹیکسز ونگ ڈیٹا کی جانچ کررہا ہے اور درست رہائشی پتے اور شناخت معلوم کرنے کے بعد ان افراد کو ٹیکس ادائیگی کے لیے نوٹسز ارسال کیے جائیں گے۔
تاہم دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ ان پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا فراہم کرے گا جنہوں نے غیرقانونی دولت چھپانے کی غرض سے اقامہ (ورک پرمٹ) حاصل کیا ہوا ہے۔
ایف بی آر نے 22 اگست کو متحدہ عرب امارات کو خط ارسال کیا تھا، جس میں اقامہ اور سرمایہ کاری کے ذریعے رہائش حاصل کرنے والے تمام پاکستانی شہریوں کی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
متحدہ عرب امارات کا قانون ایک خاص حد تک سرمایہ کاری کی بنیاد پر غیر ملکیوں کو اقامہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے معلومات موصول ہوئیں کہ 3 ہزار 620 اکاؤنٹس یہاں کے ہیں جس کے بعد پاکستان میں اس معاملے کو اہمیت ملی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان، یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا دوبارہ رکن منتخب ہوگیا

پاکستان، یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا دوبارہ رکن منتخب ہوگیا

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے سماجی رابطے کی ویب پر ٹوئٹ کرتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے