آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا

 کراچی: آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ کو جبری رخصت پر بھجوادیا گیا ہے جب کہ مشتاق مہر کو انسپکٹر جنرل آف پولیس کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔

 آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو مقتدر حلقوں سے اختلافات کے باعث جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے جب کہ ان کی جگہ کراچی پولیس چیف کو آئی جی سندھ کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

وفاق یا سندھ حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے ابھی تک باقاعدہ طور پر کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تاہم چند روز قبل ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ میں گزشتہ 8 ماہ سے اس عہدے پر فائر ہوں لیکن پولیس میں موجود اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران اور سندھ کی  اہم سیاسی شخصیات مجھے اس عہدے سے ہٹانے کی کوشش میں ہیں، اگر مجھے وفاق یا سندھ حکومت کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا تو میں فوری طور پر عہدے کا چارج چھوڑنے کے لئے تیار
ہوں۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے میں نے سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے بھی بات کی ہے کہ مجھے گزشتہ 2 ماہ سے غیر قانونی کام کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے لہذا میں اس عہدے پر مزید کام نہیں کر سکتا تاہم وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے اس حوالے سے کسی قسم کی مدد کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
اللہ ڈنو خواجہ کے بعد آئی جی کے لئے چئیرمین اینٹی کرپشن سندھ غلام قادر تھیبو، سردار عبدالمجید اور ایڈیشنل آئی جی سندھ ٹریفک پولیس ذاکر حسین کے نام زیر گردش تھے تاہم آئی جی کے عہدے کے لئے قرعہ فال کراچی پولیس چیف کے عہدے پر تعنیات مشتاق مہر کے نام نکلا اور انہیں قائم مقام آئی جی سندھ تعینات کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

لیبارٹریوں کے معیار کو جانچنے کیلیے 11 رکنی ٹاسک فورس تشکیل

لیبارٹریوں کے معیار کو جانچنے کیلیے 11 رکنی ٹاسک فورس تشکیل

کراچی: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے سندھ بھر میں قائم لیبارٹریوں کے معیار کو جانچنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے