6 نکاتی ایجنڈا بلوچستان کے سنگین مسائل کا حل ہے

6 نکاتی ایجنڈا بلوچستان کے سنگین مسائل کا حل ہے

کوئٹہ: بی این پی (ایم) کے سربراہ نے خدشات کا اظہار کیا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران کسی بھی نکات پر عمل نہیں کیا گیا

اختر مینگل نے کہا کہ 6 نکاتی ایجنڈا بلوچستان کے سنگین مسائل کا حل ہے جو وہ کئی عرصے سے سامنا کررہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب بلوچستان کے مسائل حل کرانے کی یقین دہانی پر بی این پی مینگل نے وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا جس کا مقصد ذاتی مفاد نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ خصدار کے ضلع کرخ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 4 کروڑ روپے مختص کیے گئے جبکہ مسقتبل قریب میں 2 ڈیمز کی تعمیرات کا کام بھی شروع ہوجائےگا۔
صدارتی انتخابات کے وقت ہم نے 6 نکاتی ایجنڈے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا جبکہ اس سے قبل 9 نکات پر سمجھوتہ کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے کسی ایک نکتے پر عمل نہیں کیا گیا۔
اس سےقبل اخترمینگل نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی انتہائی غیر سنجیدہ ہے اور بار بار تنبیہہ کے باوجود ان کے رویے میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی۔
25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف اور بی این پی مینگل میں ایک سمجھوتہ طے پایا تھا جس میں دونوں فریقین نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے تھے۔
جس کے تحت بی این پی مینگل کے اراکین اسمبلی نے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات کے لیے حکومت کی حمایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

بلوچستان یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے عارضی طور پر عہدے سے دستبردار

بلوچستان یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے عارضی طور پر عہدے سے دستبردار

کوئٹہ: شفاف انکوائری کو یقینی بنانے اور یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر کی درخواست …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے