مریم نوازاور چچازاد بھائی یوسف عباس کو جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پر احتساب عدالت میں پیش

مریم نوازاور چچازاد بھائی یوسف عباس کو جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پر احتساب عدالت میں پیش

اسلام آباد: پہلے یوسف عباس کو احتساب عدالت پہنچایا گیا اور لگ بھگ 45 منٹ کے وقفے کے بعد مریم نواز کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ انھیں ڈیوٹی جج جواد الحسن کی عدالت میں پیش کیا گیا

احتساب عدالت نے مریم نواز اور یوسف عباس کو روسٹرم پر بلایا تاہم رش کی وجہ سے جج نے مریم نواز کو فوری طور پر واپس اپنی جگہ بیٹھے کی ہدایت کی اور باور کرایا کہ سکیورٹی ایشو ہو سکتا ہے۔
اس موقع پر مریم نواز کے وکیل نے واضح کیا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ یہاں سب چہرے جانے پہچانے ہیں جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ ہو سکتا ہے کچھ چہروں کو آپ بھی نہ جانتے ہوں۔
کمرۂ عدالت میں رش اور شور کی وجہ سے کانوں پڑی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی جس کی وجہ سے احتساب عدالت کے جج اور وکلاء کو آپس میں بات کرنے اور سمجھنے میں شدید دشواری کا سامنا رہا۔
رش کے دوران کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اپنی اہلیہ مریم نواز کے ساتھ ساتھ رہے اور ان کے لیے جگہ بناتے رہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے دانیال عزیز کے ساتھ مل کر مریم نواز کے سامنے رکھی میز کو آگے کی طرف دھیکلا تاکہ ان کی اہلیہ کو کو کوئی دشواری نہ ہو۔
کمرۂ عدالت میں خواتین ارکان اسمبلی ایک دوسرے کے ساتھ تصاویر اور سیلفیاں بھی بناتی رہی۔
احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے کمرۂ عدالت میں تصاویر بنانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ کوئی تصویر اور سیلفی نہ بنائے۔
مریم نواز اور یوسف عباس کو ان کے وکلا کے ساتھ الگ کمرے میں ملاقات کی اجازت دی گئی تاہم کمرے میں دیگر کارکن بھی داخل ہو گئے۔
احتساب عدالت کے جج نے تمام صورت حال پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ کمرے میں مختلف مقدمات کا اہم اور قیتمی ریکارڈ پڑا ہے وہ تباہ ہو جائے گا۔ عدالت نے حکم دیا کہ غیر متعلقہ لوگوں کو کمرے سے باہر نکالا جائے۔
فاضل جج نے غصے کا اظہار کیا اور کہا پولیس کا کوئی والی وارث نہیں وہ کیوں بکری بنے کھڑی ہے۔؟
مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے لیے منرل واٹر لا کرکمرۂ عدالت میں رکھی فائلوں میں چھپا دیا گیا۔
مریم نواز کی احتساب عدالت آمد اور روانگی کے موقع پر ان کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ کارکنوں نے نعرہ لگایا ’چاروں صوبوں کی آواز مریم نواز مریم نواز۔‘
میڈیا سے مختصر گفتگو میں مریم نواز نے جیل میں فون برآمدگی کی اطلاع کو بے بنیاد قرار دیا اور نشاندہی کی کہ آئی جی جیل خانہ جات خود اس کی تردید کر چکے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ کے بارے میں سوال پر مریم نواز نے کہا کہ جس طرح غلط طریقے سے یہ حکومت آئی ہے اسی طرح یہ جائے گی.
عدالت نے مریم نواز اور یوسف عباس کو 23 اکتوبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں

کوئی ایسا ایشو نہیں ہے جس کی وجہ سے مولانا دھرنا دے رہے ہیں

کوئی ایسا ایشو نہیں ہے جس کی وجہ سے مولانا دھرنا دے رہے ہیں

اسلام آباد: حکومت چھوڑ دیں، یہ ناممکن ہے، بیانات ابتدا میں سخت آتے ہیں لیکن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے