سیموئل نے زیادہ تر ان لوگوں کو قتل کیا جو لاوارث تھے

سیموئل نے زیادہ تر ان لوگوں کو قتل کیا جو لاوارث تھے

امریکہ: حکام کا کہنا ہے کہ سیموئل نے زیادہ تر ان لوگوں کو قتل کیا جو لاوارث تھے۔ ان میں زیادہ تر سیاہ فام خواتین تھیں جو زیادہ تر جسم فروش تھیں یا منشیات استعمال کرتی تھیں

ایف بی آئی نے کبھی بھی قتل کے ان واقعات کی تحقیقات نہیں کیں۔ زئادہ تر واقعات کو حادثہ یا پھر حد سے زیادہ نشے کا استعمال سمجھا گیا۔ کچھ لاشیں کبھی مل نہیں سکیں۔
سابقہ پیشہ ور باکسر لٹل اپنے شکار کا گلا گھوٹنے سے پہلے اسے گھونسے مارتے تھے لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا تھا کہ بظاہر معلوم ہو جائے کہ مقتول کو کسی نے بہیمانہ تشدد کر کے مارا ہے۔
ایف بی آئی نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اس کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ’ان کے تمام اعتراف قابل اعتبار ہیں۔‘
ایف بی آئی کے جرائم کے تجزیہ کار کرسٹی پالازولو نے ایک بیان میں کہا ’ سیموئل لٹل کو کئی سالوں سے یقین تھا کہ وہ پکڑے نہیں جائیں گے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ کوئی بھی ان کے شکاروں کا حساب کتاب نہیں کر رہا ہے۔‘
حکام نے پانچ معاملات کی اضافی معلومات عوام کے لیے اس امید پر جاری کی ہیں کہ فلوریڈا، کینٹکی، لوئزیانا، نیواڈا اور آرکنساس کے غیر تصدیق شدہ مقتولین کا پتہ چل سکے گا۔
ایجنسی نے اس سے قبل لٹل کی جانب سے مقتولین کے ان رنگین خاکوں کو بھی جاری کیا تھا جو انھوں نے دوران قید بنائے تھے۔ یہ ایک کوشش ہے کہ مزید مقتولین کی شناخت ہو سکے۔
ایف بی آئی نے ان ویڈیو انٹرویوز کو بھی جاری کیا ہے جن میں لٹل نے قتل کے واقعات کی تفصیلات بتائی ہیں۔
ایف بی آئی جن پانچ کیسوں کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے ان میں سے ایک کے بارے میں لٹل نے بتایا کہ 70 کی دہائی کے اوائل میں وہ فلوریڈا کی خواجہ سرا خاتون جن کا نام میری این یا ماریانے ہے سے ملے تھے جو کہ ایک سیاہ فام خاتون تھیں۔
لٹل نے سنہ 1993 کے دوران ایک خاتون کو لاس ویگاس کے ایک موٹل کے کمرے میں گلا گھونٹ کر قتل کیا۔
قتل کے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے لٹل نے بتایا کہ اسے قتل کرنے کے بعد وہ اس کے بیٹے سے ملے اور مصافحہ بھی کیا۔ انھوں نے اس خاتون کو قتل کرنے کے بعد شہر کے مضافات میں ایک ڈھلوان سے اس کی لاش کو نیچے پھینک دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ قتل کے واقعات کے بارے میں لٹل کی یادداشت بہت کم یاد باقی رہ گئی ہے اور وہ قتل کے واقعات کی تاریخوں کو یاد نہیں کر پاتے جس سے تحقیقات میں رکاوٹ آ رہی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا لٹل کو حالیہ اعترافات کے نتیجے میں مزید الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
لٹل کو سنہ 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر منشیات کے حوالے سے الزامات تھے۔ انھیں کینٹکی سے کیلی فورنیا منتقل کیا گیا تھا جہاں حکام نے ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا تھا۔ وہ امریکہ کے مختلف علاقوں میں پہلے ہی سے وسیع پیمانے پر جرم کا ریکارڈ رکھتے تھے۔ ان میں ڈکیتی اور ریپ کے واقعات شامل ہیں۔
ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج نے ان کا تعلق سنہ 1987 اور 1989 میں لاس اینجلس میں ہونے والے قتل سے جوڑا جن کا کچھ پتہ نہیں چل سکا تھا۔ مقدمے میں وہ مجرم ثابت نہیں ہوئے لیکن پھر انھیں تین بار عمر قید کی سزا سنائی گئی اور اس میں ان کی ضمانت پر رہائی کا بھی کوئی امکان نہیں تھا۔
انھیں پھر ایف بی آئی کے پرتشدد جرائم میں ملوث افراد کے لیے بنائے جانے والے پروگرام کے حوالے کیا گیا۔
یہ ایک سکیم ہے جس کے تحت تواتر سے تشدد اور جنسی جرائم کرنے والے مجرم کو دیکھا جاتا ہے اس کے علاوہ معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے مقامی سطح پر موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ غیر حل شدہ جرائم کے کیسز کے حل میں مدد لی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مائیں اپنی پسند کا لباس پہن سکتی ہیں

مائیں اپنی پسند کا لباس پہن سکتی ہیں

فرانس:سیاستدان کے رویے کی وجہ سے مسلم خاتون کے ساتھ بیٹھا ان کا بچہ بھی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے