آرڈیننس کے ذریعے سی پیک اتھارٹی کا قیام بیک ڈور قانون سازی ہے

آرڈیننس کے ذریعے سی پیک اتھارٹی کا قیام بیک ڈور قانون سازی ہے

پی پی پی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت سی پیک منصوبے عسکری قیادت کے حوالے کرنا چاہتی ہے

ہم سول سوسائٹی کو ملٹری کے سانچے میں نہیں دیکھنا چاہتے اور اب یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔
احسن اقبال نے خبردار کیا کہ مسلم لیگ (ن) آرڈیننس کے خلاف پارلیمنٹ میں شدید احتجاج کرے گی اور دیگر فورم پر بھی مذکورہ معاملہ اٹھائے گی۔
گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے آرڈیننس پر دستخط کیے تھے۔
حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ سی پیک اتھارٹی کے قیام کا مقصد سی پیک سے متعلق تعمیری سرگرمیوں کی رفتار بڑھانے اور ترقی کے نئے امکانات تلاش کرنا ہے۔
احسن اقبال نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک پر قومی اسمبلی کی کمیٹی اتھارٹی کے قیام کی قطعی طور پر مخالفت کرچکی، آرڈیننس کے ذریعے ’پارلیمنٹ کو زمین بوس‘ کیا جارہا ہے اور مذکورہ حکومتی اقدام قومی نوعیت کے منصوبے کو متنازع بنا دے گی۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کے قیام سے واضح پیغام ملتا ہے کہ حکومت کو ریاستی اداروں پر عدم اعتماد ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک منصوبوں پر 28 ارب 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ’اتھارٹی‘ لے کر نہیں آئی بلکہ آئینی اداروں اور جمہوری طریقے سے سیاسی حکومت لے کر آئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک منصوبوں کی تکمیل کے لیے اتھارٹی کا قیام نہیں بلکہ وژن اور رقوم درکار ہے اور موجودہ حکومت ان دونوں چیزوں سے محروم ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کوئی ایسا ایشو نہیں ہے جس کی وجہ سے مولانا دھرنا دے رہے ہیں

کوئی ایسا ایشو نہیں ہے جس کی وجہ سے مولانا دھرنا دے رہے ہیں

اسلام آباد: حکومت چھوڑ دیں، یہ ناممکن ہے، بیانات ابتدا میں سخت آتے ہیں لیکن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے