فرانسییسی انجینئرز کی بس پر حملہ ستمبر 2001 میں امریکا میں ہونے والے حملوں کے فوراً بعد ہوا

فرانسییسی انجینئرز کی بس پر حملہ ستمبر 2001 میں امریکا میں ہونے والے حملوں کے فوراً بعد ہوا

پیرس: انتقامی حملے کی کہانی اس وقت منظر عام پر آئی جب سابق فرانسیسی صدر جیکوئس شیرک نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ 1994 میں ہونے والے اسلحہ معاہدے میں رشوت کی ادائیگی منسوخ کردی تھی، یہ کہانی سالوں تک زیر گردش رہی

اس دعوے نے مذکورہ کہانی کو غلط ثابت کیا کہ رشوت کے طور پر ادا کی گئی کچھ رقم واپس فرانس آگئی تھی جسے سابق وزیراعظم ایڈورڈ بیلاڈور کی انتخابی مہم میں استعمال کیا گیا۔
اسلحہ معاہدے میں رشوت وصولی کی تحقیقات کرنے والے میجسٹریٹ کو بھیجے گئے نوٹ میں فرانس کے انسداد دہشت گردی ادارے کے ڈی جی ایس آئی نے کہا کہ اسلامی انتہا پسندوں کے حملے کا خیال ہی درست معلوم ہوتا ہے۔
اپنے بیان کی حمایت میں انہوں نے حملے کے وقت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ فرانسییسی انجینئرز کی بس پر حملہ ستمبر 2001 میں امریکا میں ہونے والے حملوں کے فوراً بعد ہوا جب فرانس افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکا کی جنگ میں شامل ہوگیا تھا۔
بس حملے کے پسِ پردہ القاعدہ یا کسی اور دہشت گرد گروہ کے ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس وقت خطے میں مغربی مفادات کو سنگین خطرات لاحق تھے‘۔
ڈی جی ایس آئی کا مزید کہنا تھا کہ بم حملے کے 17 سال گزرنے کے باوجود اس دہشت گرد کارروائی کے مرتکب افراد کے حوالے سے تفتیش کار کوئی نیا پہلو نہ پیش کرسکے۔
فرانس ہمیشہ بیرونِ ملک ہونے والے ایسے حملوں کی تحقیقات خود کرتا ہے جن میں فرانسیسی شہری نشانہ بنائے گئے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں

مائیں اپنی پسند کا لباس پہن سکتی ہیں

مائیں اپنی پسند کا لباس پہن سکتی ہیں

فرانس:سیاستدان کے رویے کی وجہ سے مسلم خاتون کے ساتھ بیٹھا ان کا بچہ بھی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے