انتہاؤں کے پیچھے بھاگنے والوں میں سے کامیاب صرف وہ ہوتے ہیں جو خود بھی بے انتہا دیوانے ہوں

انتہاؤں کے پیچھے بھاگنے والوں میں سے کامیاب صرف وہ ہوتے ہیں جو خود بھی بے انتہا دیوانے ہوں

پیارے مولانا صاحب! وقت سدا ایک سا نہیں رہتا الٹ پھیر دنیا کا پرانا وتیرہ ہے۔ جو آج جہاں ہے، اس کے کل وہاں نہ ہونے میں کچھ اچنبھا نہیں

کل جو آزادی مارچ کررہے تھے اور دھرنا دے رہے تھے، آج وہ یہی کرنے والوں کو برا کہہ رہے ہیں اور کل جو ایسا کرنے والوں کو برا کہہ رہے تھے آج خود یہی کرنے جارہے ہیں۔ لیکن اس میں نیا کیا ہے؟
تاریخ بھری پڑی ہے۔ قاتل قتل ہوتے رہتے ہیں۔ ظالم مظلوم بنتے رہتے ہیں۔ شاہ گدا بنتے رہتے ہیں۔ یوسف سرِ بازار بکتے رہتے ہیں اور انہیں مارنے کا اہتمام کرنے والے ان کے در پر سوالی بن کر بھی جاتے رہتے ہیں۔ دنیا ایسی ہی ہے۔ کبھی طالبان مصلح بنے تو کبھی دہشتگرد۔ کبھی صدام حسین ہیرو بنا تو کبھی انسانیت کا دشمن۔ کبھی ہم امریکا بہادر کے Most allied of the allies بنے، تو کبھی ہم نے امریکا مردہ باد کے نعرے لگائے۔ کبھی ہم نے دنیا کی دوسری بڑی طاقت پر حملوں کےلیے امریکا بہادر کو اڈے دیئے تو کبھی اس کی افواج کی سپلائی لائن ہی کاٹ دی۔ یہی دنیا ہے۔
زیرک سیاستدان یا عظیم مذاکرات کار وہ نہیں ہوتا جو بہت بڑا مطالبہ لے کر جائے اور اس کے پاس تخت اور تختہ کے سوا تیسرا کوئی آپشن ہی نہ ہو۔ بڑا کھلاڑی یا دانا سیاستدان وہ ہوتا ہے جو بیچ کی راہ نکالنا جانتا ہو۔ جو سانپ بھی مار دے اور لاٹھی بھی بچا لے۔ جو اپنے لیے بھی اسپیس لے لے اور دوسرے کو بھی اسپیس دے۔ کامیابی انتہا کا نام نہیں۔ کامیابی آگے بڑھنے کا نام ہے۔ انتہاؤں کے پیچھے بھاگنے والوں میں سے کامیاب صرف وہ ہوتے ہیں جو خود بھی بے انتہا دیوانے ہوں۔ جو خود بھی کسی شمع کے پروانے ہوں۔ جن میں آخری سانس تک لڑنے کا حوصلہ ہو۔ جو زندگی بھر سیدھے راستے پر چلتے رہے ہوں۔ جنہوں نے بھٹکنا یا ڈگمگانا سیکھا ہی نہ ہو۔ جن کی ہمت، حوصلہ اور جہد مسلسل زمانوں کو تھکا دے، شیطانوں کو ہرا دے اور سارے عالم کو اپنا گرویدہ بنا لے اور دنیا کے سامنے برائی کی قوتوں کو بے نقاب کردے۔ یہاں تک کہ برائی کے پاس غروب ہونے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہے۔
جب تک انتخابی نظام خودکار میکانی طریقوں پر استوار ہوکر انسانی چیرہ دستیوں سے مبرا نہیں ہوجاتا اور سینیٹ الیکشن کا الیکٹورل کالج عوام نہیں بن جاتے، اس وقت تک کٹھ پتلیاں ناچتی رہیں گی اور مداری کھیل دکھاتے رہیں گے اور سیاستدان بِکنے پر مجبور ہوتے رہیں گے۔ جب جب، جس جس کو آئی جے آئی یا ایم ایم اے یا ق لیگوں کی لڑی میں پرو کر تخت پر بٹھایا جاتا رہے گا تب تب وہ بادشاہ گروں کے اقبال کی بلندی کےلیے دعاگو رہے گا اور جب جب، جس جس کو میدان سے باہر کیا جاتا رہے گا، تب تب وہ وکٹیں اکھاڑ کر میدان الٹانے کی کوششیں کرتا رہے گا۔ فیصلہ تو بہرحال آپ ہی کو کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اس دنیا کے 3 خطرناک ترین نشے ہیں

اس دنیا کے 3 خطرناک ترین نشے ہیں

آپ پہلے 2 نمبروں پر نشے کی کوئی دوسری قسم بھی لاسکتے ہیں مگر ماہانہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے