دنیا بھر میں 5 کروڑ افراد ڈیمنشیا کے شکار ہیں

دنیا بھر میں 5 کروڑ افراد ڈیمنشیا کے شکار ہیں

کراچی: ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسٹی ٹیوٹ آف بیہیورل سائنسِس کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ دماغی صحت کے تحت ماہرین نے کہا کہ 70 سال سے زائد عمر کے 12 فیصد لوگ ڈیمینشیا میں میتلا ہوتے ہیں

معروف نیورو لوجسٹ ڈاکٹر بشیر احمد سومرو، ڈاکٹر حیدر نقوی، ڈاکٹر قرات العین، ایگزیکٹو ڈائریکٹر بریگیڈیر شعیب احمد اور دیگر نے خطاب کیا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ الزائمر ڈیزیز انٹرنیشنل کے مطابق دنیا میں اس وقت لگ بھگ 5 کروڑ افراد ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
ڈاکٹر بشیر احمد سومرو نے ڈیمنشیا اور الزائمر کی علامات تشخیص اور علاج کے موضوع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ابتدائی طور پر ڈیمنشیا میں یادداشت میں درمیانے درجے کی تبدیلیاں ہوتی ہیں مگر یہ تبدیلیاں معمولات اور خود مختاری پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیمنشیا کا سبب بننے والے عوامل میں عمر، فیملی ہسٹری میں الزائمر یا پارکنسن کا ہونا، سر پر چوٹ، ڈپریشن، شوگر، ہائی بلڈ پریشر، ڈاؤن سنڈروم و دیگر شامل ہیں۔ خواتین میں یہ مرض اس لیے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ عموماَ ہمارے خواتین کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں۔
ڈیمنشیا کے علاج کے لیے اس کی مختلف اقسام کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے، مریضں کی مکمل ہسٹری کے ساتھ رسک فیکٹر کو ختم کرکے ڈیمنشیا کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔
سول اسپتال کے شعبہ نفسیات کے سربراہ پروفیسر حیدر نقوی نے کہا کہ ڈیمنشیا کی تشخیص کے میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیمنشیا کے متعلق آگہی پھیلانے کے لیے ایک ایسوسی ایشن بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ڈاکٹر قراۃ العین نے ڈیمنشیا کی تشخیص اور علاج کے سلسلے میں جدید معلومات سے شرکا کو آگاہ کیا۔ ماہرین نے کہا کہ 62 فیصد معالجین سمجھتے ہیں کہ بڑھتی عمر میں ڈیمنشیا ایک عام سی بات ہے جبکہ ڈیمنشیا کے مرض کو نظر انداز کردیتے ہیں حالانکہ اس پر توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

دوا کینسر کا سبب بن سکتی ہے جس کے بعد ڈریپ نے احکامات جاری

دوا کینسر کا سبب بن سکتی ہے جس کے بعد ڈریپ نے احکامات جاری

اسلام آباد: موجود ڈریپ کے دستاویزات میں کہا گیا کہ رینیٹیڈائن سے بننے والی دواؤں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے