گوادر پورٹ کو تجارتی راہداری (ٹرانزٹ ٹریڈ) کے لیے کھول دیا گیا

گوادر پورٹ کو تجارتی راہداری (ٹرانزٹ ٹریڈ) کے لیے کھول دیا گیا

اسلام آباد: کمیٹی کو بتایا گیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (اے ٹی ٹی) ماڈیول میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت تھی، جسے کیا گیا اور ابتدائی طور پر ٹیسٹ کرنے کے بعد یہ اطلاق کے لیے تیار ہے

پہلا اے ٹی ٹی شپمنٹ آئندہ ہفتے 8 اکتوبر کو گوادر پورٹ پر آئے گا، جس میں بتدریج اضافہ ہوگا۔
اس موقع پر گوادر سے تعلق رکھنے والے ذیلی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر خدا بابر نے علاقے کی ترقی اور منصوبہ بندی میں موجود خلا کی طرف اشارہ کیا۔
حکام نے اس بات کو تسلیم کیا کہ گوادربندرگاہ کی اصل حریف سنگاپور اور دبئی کی بندرگاہیں ہوں گی کیونکہ کارگو میں تاخیر کے چارجز نہ ہونے اور 3 ماہ کی اسٹوریج کی سہولت جیسی مراعات یقینی طور پر کاروبار کو گوادر کی طرف موڑ دے گا۔
ذیلی کمیٹی کی جانب سے بندرگاہ کے اندر یا باہر فش پروسیسنگ کے لیے اسٹوریج کی سہولیات سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ساتھ ہی کمیٹی کو یقین دہانی کروائی گئی کہ اس طرح کی سہولیات فراہم کرنے اور اس سلسلے میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی کمپنیوں پر اضافی ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔
اس دوران ذیلی کمیٹی نے چینی کمپنیوں سمیت مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو گوادر بندرگاہ پر فش ڈمپنگ اور ری پروسیسنگ سہولیات فراہم کرنے سے متعلق قانونی فریم ورک، قواعد و ضوابط پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیں

قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے یہ لوگ جان بوجھ کر اسمگلنگ کو فروغ دے رہے ہیں

قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے یہ لوگ جان بوجھ کر اسمگلنگ کو فروغ دے رہے ہیں

کوئٹہ: بدرالدین کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ کا ایوانِ صنعت و تجارت قانونی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے