پانی کے ٹینکر پرانے بھتہ خوروں کے زمانے میں بھی چلتے تھے تو لوگ اسے ٹینکر مافیا کہتے تھے

پانی کے ٹینکر پرانے بھتہ خوروں کے زمانے میں بھی چلتے تھے تو لوگ اسے ٹینکر مافیا کہتے تھے

کراچی: اس بھتہ خوری کی جان لیوا شکل ایک پرائیویٹ ہسپتال میں دیکھی جہاں سرجن اپنی لاکھوں کی فیس صرف کیش میں وصول کرتا ہے اور رسید بھی نہیں دیتا۔

ایک اس سے بھی بڑے پرائیویٹ ہسپتال میں ایک اس سے بھی بڑا سرجن ایک مزدور لڑکے کی ایکسیڈنٹ میں کچلی ہوئی ٹانگ کو دیکھ کر کہتا ہے آٹھ لاکھ لے آؤ تو بچ سکتی ہے ورنہ سرکاری ہسپتال میں لے جا کر کٹوا لو۔
کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ ہے جو ہزاروں گھروں کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیتا لیکن بل باقاعدگی سے بھیجتا ہے اور دھمکی بھی دیتا ہے کہ بل نہ دیا تو کنکشن کاٹ دیں گے اور جرمانہ بھی ہو گا۔
کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے خلاف اٹھنے والی آخری آواز ہمارے سابق ایم این اے عارف علوی کی تھی جو پانی نہ ملنے پر احتجاج کرنے گئے تھے۔ ہماری عسکری اداروں کے ذیلی اداروں کے اہلکاروں نے انھیں دھکے دے کر نکال دیا اور اس کے بعد صدر بنا دیا۔ قصہ تمام۔
پانی کے ٹینکر پرانے بھتہ خوروں کے زمانے میں بھی چلتے تھے تو لوگ اسے ٹینکر مافیا کہتے تھے۔ اب ذیلی کے ذیلی اداروں نے اسے ایک بزنس کی شکل دے دی ہے۔
ٹینکر مافیا کے ٹینکروں پر لکھا ہوتا تھا ساڈے بھی دو ہی شوق، ایمان کی زندگی، ایمان کی موت۔ نئے ٹینکروں کے اوپر برانڈ بنے ہوئے ہیں اور ڈرائیوروں نے چمکتی ہوئی وردی اور ٹوپی پہن رکھی ہوتی ہے۔ دھندہ وہی پرانا ہے کہ ہمارا پانی ہم سے چوری کرو اور ہمیں ہی بیچو۔
پرانے بھتہ خور کا نام ‘کے ای ایس سی’ ہوتا تھا، انھوں نے کروڑوں روپے خرچ کرکے اپنا نام بدل کر ‘کے ای’ رکھ لیا۔
ہر مہینے اپنی زندگی کا سب سے بڑا بجلی کا بل دیتے ہیں اگلے ہی دن 16 گھنٹے کے لیے بجلی غائب کر دیتے ہیں۔ پتہ کرنے نکلو تو ٹرانسفارمر سے آگ کے شعلے اس طرح نکل رہے ہوتے ہیں جیسے کسی ناکام عاشق کا دل ہو۔ راہ گیر آگ بھجانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
کے ای والے بھتہ خور الٹا اپنے صارفین کو ڈرانے دھمکانے والے اشتہار جاری کرتے رہتے ہیں۔
کراچی کے نئے بھتہ خورروں کو بھگتتے ہوئے پرانے بھتہ خوروں کی یاد ستانے لگتی ہے۔ جب کسی سیاسی جماعت کا جلاد، فرعون یا نفسیاتی نامی لونڈا بھتہ لیتا تھا تو یہ تسلی رہتی تھی کہ کچھ مہینے دکان محفوظ رہے گی، محلے میں چوڑے ہو کر چل سکتے تھے بلکہ بھاؤ تاؤ کی گنجائش بھی موجود رہتی تھی۔
ایک دوست کی دکان پر طالبان نے چھ لاکھ روپے کی پرچی بھیجی

ہم کراچی والے اتنے ڈھیٹ ہیں کہ طالبان کو بھتہ دیا، انھیں راؤ انوار سے مروایا پھر راؤ انوار کو بھتہ دیا لیکن کبھی بھی مان کے نہ دیے کہ کراچی میں طالبان موجود ہیں۔

ابھی یار دوست طالبان سے بات کرنے کے لیے کوئی سفارش ہی ڈھونڈ رہے تھے کہ دوست کا فون آ گیا کہ فکر نہ کریں معاملہ 20 ہزار میں طے ہو گیا ہے۔
بھتہ خوروں کو اپنا دھندا چلانے کے لیے موٹی آسامی کی ضرورت ہوتی ہے جو کبھی اپنی جان بچانے کے لیے اور کبھی محض جان چھڑانے کے لیے فوراً جیب ڈھیلی کرنے پر تیار رہتی ہے۔
ڈیفینس میں کتنے بھی ٹرانسفارمر جل جائیں، جینریٹر خودبخود آن ہو جاتے ہیں، سرجن جتنے لاکھ بھی مانگے کیش جیب میں موجود رہتا ہے، ذیلی اداروں کے ذیلی پانی کے ٹینکر کا ریٹ جو بھی مقرر کردیں سوئمنگ پول تو پانی مانگتا ہے۔
بھتہ خوروں کو اپنا دھندا چلانے کے لیے موٹی آسامی کی ضرورت ہوتی ہے جو کبھی اپنی جان بچانے کے لیے اور کبھی محض جان چھڑانے کے لیے فوراً جیب ڈھیلی کرنے پر تیار رہتی ہے۔
ڈیفینس میں کتنے بھی ٹرانسفارمر جل جائیں، جینریٹر خودبخود آن ہو جاتے ہیں، سرجن جتنے لاکھ بھی مانگے کیش جیب میں موجود رہتا ہے، ذیلی اداروں کے ذیلی پانی کے ٹینکر کا ریٹ جو بھی مقرر کردیں سوئمنگ پول تو پانی مانگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

انتہاؤں کے پیچھے بھاگنے والوں میں سے کامیاب صرف وہ ہوتے ہیں جو خود بھی بے انتہا دیوانے ہوں

انتہاؤں کے پیچھے بھاگنے والوں میں سے کامیاب صرف وہ ہوتے ہیں جو خود بھی بے انتہا دیوانے ہوں

پیارے مولانا صاحب! وقت سدا ایک سا نہیں رہتا الٹ پھیر دنیا کا پرانا وتیرہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے