دوا کینسر کا سبب بن سکتی ہے جس کے بعد ڈریپ نے احکامات جاری

دوا کینسر کا سبب بن سکتی ہے جس کے بعد ڈریپ نے احکامات جاری

اسلام آباد: موجود ڈریپ کے دستاویزات میں کہا گیا کہ رینیٹیڈائن سے بننے والی دواؤں میں نائیٹروسمائن کا گند، این ڈی ایم اے، پایا گیا ہے

دستاویزات کے مطابق ‘ایف ڈی اے اور یورپی میڈیسنز ایجنسی (ای ایم اے) رینیٹیڈائن میں موجود کم مقدار میں این ڈی ایم اے سے پیدا ہونے والے خدشات کا معلوم کر رہے ہیں’۔
ڈریپ کا کہنا تھا کہ ‘این ڈی ایم اے ایک معروف ماحولیاتی غلاظت ہے جو پانی اور غذا جیسے گوشت، دودھ سے بنی مصنوعات اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے’۔
دستاویزات میں کہا گیا کہ ‘ڈریپ عالمی ریگولیٹری ایجنسیوں کے ساتھ مل کر تحقیقات کے نتائج پر نظر رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے، تاہم عوامی مفاد میں مریضوں کو این ڈی ایم اے کے خدشات سے بچانے کے لیے تجویز دی جاتی ہے کہ رینیٹیڈائن کے استعمال سے بنی ادویات کی پیداوار مزید احکامات تک روک دی جائیں’۔
‘یہ درخواست کی جاتی ہے کہ فروخت کے لیے دستیاب ایسی دواؤں کو فوری واپس منگوایا جائے’۔
ڈریپ حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ رینیٹیڈائن 1976 میں دریافت کیا گیا تھا اور اس کا کمرشل استعمال کا آغاز 1981 میں ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کا استعمال تیزابیت سے نمٹنے کے لیے کیا جاتا ہے اور یہ عالمی ادارہ صحت کے ضروری ادویات کی فہرست میں شامل ہے، یہ امریکا میں سب سے زیادہ تجویز کی جانے والی دواؤں کی فہرست میں 50ویں نمبر پر ہے تاہم ایف ڈی اے نے مریضوں سے اس کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی ہے
کینیڈا نے بھی کمپنیوں کو اس کی پیداوار روکنے اور اسے واپس منگوانے کا کہا ہے جبکہ اس ہی طرح کے اقدامات یورپ نے بھی کیے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں

بلڈ گروپ آر ایچ نیگیٹو ہے اور یہ اس قدر نایاب

بلڈ گروپ آر ایچ نیگیٹو اور یہ اس قدر نایاب

یہ افراد دنیا کے وہ 15 فیصد افراد ہیں جن میں اب تک معلوم شدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے