پانامہ کیس کی سماعت کرنیوالا پانچ رکنی بنچ ٹو ٹ گیا

اسلام آباد: پانامہ لیکس کیس کی سماعت کرنیوالا 5رکنی لارجر بنچ ٹوٹ گیا۔ سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کافیصلہ نیا بنچ کریگا۔ تحریکِ انصاف نے کمیشن بننے پر اس کے بائیکاٹ کی دھمکی دیدی چیف جسٹس کہتے ہیں عدالت کےلئے فیصلہ کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں چاہتے ہیں تمام فریقین کو پورا موقع ملے۔

تفصیلات کےمطابق  چیف جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے پانامہ لیکس کیس کی سماعت کی چیف جسٹس نے وزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ سے کمیشن کے بارے میں استفسار کیا کہ بٹ صاحب آپ کو کیا ہدایات ملی ہیں  اسلم بٹ نے کہا کہ عدالت جو مناسب سمجھے وہ کرے۔ وزیراعظم کےخلاف براہ راست اور بلاواسطہ کوئی الزام ہے نہ کوئی ثبوت۔ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ کاکہنا تھا کہ کمیشن کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں۔ حسن اور حسین نواز اوورسیز پاکستانی ہیں ان کا کیس سے کوئی تعلق نہیں۔عدالتی کارروائی کا میڈیا ٹرائل جاری ہےعدالت جو بھی فیصلہ کریگی قبول کرینگے۔ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے کمیشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ عدالت ہی کرے اگر کمیشن تشکیل دیا گیا تو اس کی کارروائی کا بائیکاٹ کرینگے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن بنانے کا مقصد یہ ہے کہ بعد میں کوئی یہ نہ کہے کہ کیس ثابت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اگر کل کوکہا جائے کہ دستاویزات مصدقہ نہیں تو ایک فریق شکایت کریگا فیصلہ دیا کہ دستاویزات درست ہیں تو دوسرا فریق کہے گا کہ ان کو صفائی کا موقع نہیں ملا۔ عدالت سب کا احترام کرتی ہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کچھ دنوں میں عدالتی تعطیلات ہورہی ہیں چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ قریب ہے فل کورٹ ریفرنس سے پہلے 2دن عدالت کے پاس ہونگے۔ ایسی صورتحال میں سماعت جاری رکھنا ممکن نہیں چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ نئے بنچ کو تشکیل دینا ہوگا کیس کی ازسرنو سماعت ہوگی  وکلاءکو دوبارہ دلائل دینا ہونگے۔ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کمیشن کی تشکیل عدالت کی صوابدید ہے۔ اس کےلئے فریقین کی رضامندی ضروری نہیں  کیس کو چلایا جائے معاملے کو بعد میں دیکھیں گے عدالت نے سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتو ی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی میڈیا ایک طاقتور میڈیم ہونے کے باوجود اب بھی کمزور ہے

پاکستانی میڈیا ایک طاقتور میڈیم ہونے کے باوجود اب بھی کمزور ہے

اسلام آباد: پاکستانی میڈیا کے چار میں سے تین میڈیمز میں جو میڈیا ہاؤسز پچاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے