پتہ نہیں کہ مودی کا ٹرمپ کے ساتھ کھڑا ہونا زیادہ شرمناک ہوگا یا ٹرمپ کا مودی کے ساتھ

پتہ نہیں کہ مودی کا ٹرمپ کے ساتھ کھڑا ہونا زیادہ شرمناک ہوگا یا ٹرمپ کا مودی کے ساتھ

نیویارک: میڈیسن سکوائر گارڈن میں ان کا کسی راک سٹار جیسا استقبال ایک ایسے رہنما کے لیے فتح کا جشن محسوس ہوا جسے تقریباً ایک دہائی تک امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں ملی تھی

اتوار کو انڈین رہنما مودی اپنے حامیوں کے اس سے بھی بڑے مجمعے سے ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں خطاب کریں گے اور ان کے ساتھ امریکہ کے صدر ٹرمپ کھڑے ہوں گے۔
اس منظر کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے کشمیر پر مودی کے متنازع اقدام پر بین الاقوامی سطح پر ان کے خلاف ہونے والی تنقید میں کمی آئے گی۔
اس تقریب کو ’ہاؤڈی مودی!‘ کا نہایت موزوں نام دیا گیا ہے کیونکہ این آر جی سٹیڈیم میں ہونے والی اس تقریب میں 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کا اجتماع متوقع ہے جو کہ انڈیا کے باہر مودی کے لیے سب سے بڑا مجمع ہوگا۔
جہاں اس نوعیت کے اس پہلے مشترکہ پروگرام کو مودی کے رابطے کی جیت کے طور پر سراہا جا رہا ہے وہیں یہ امریکہ اور انڈیا کے بڑھتے ہوئے رشتوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
اوبامہ انتظامیہ میں سابق نائب وزیر خارجہ نیشا بسوال کہتی ہیں کہ ’میرے خیال سے ایک طرح سے یہ ناگزیر تھا اور یہ امریکہ میں آباد انڈین برادری کی قوت کا مظہر ہے۔‘
اب امریکہ انڈیا بزنس کونسل کی سربراہ کے طور پر کام کرنے والی بسوال نے مزید کہا کہ ’یہ رشتہ اب افراد اور سیاست سے بالاتر ہوگیا ہے۔‘
منتظمین ٹیکساس انڈیا فورم نے امریکی ایوانِ نمائندگان میں اکثریتی رہنما سٹینی ہوئیر کے ساتھ نمایاں ڈیموکریٹ رہنماؤں اور دیگر متعدد اراکینِ کانگریس، منتخب امریکی حکام اور گورنرز کو مدعو کرکے اس تقریب کے دو طرفہ پہلو پر زور دیا ہے۔
اس جلسے کے لیے ہیوسٹن کا انتخاب بھی حیران کن نہیں ہے۔
ان کے لیے بڑا مجمع یکجا ہو رہا ہے اور میرا اندازہ ہے کہ مجمع مزید زیادہ ہو گا کیونکہ انھوں نے ابھی اعلان کیا ہے، انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں جاؤں گا تو میں جاؤں گا۔‘
امریکہ میں انڈین نژاد امریکیوں کی تعداد 32 لاکھ ہے جوکہ امریکی آبادی کا ایک فیصد ہے اور یہ امریکہ کی امیر ترین برادریوں میں بھی شامل ہے۔
یشین امریکن لیگل ڈیفنس اینڈ ایجوکیشن فنڈ کے مطابق ان میں سے بیشتر کا رجحان ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب رہا ہے اور انھوں نے سنہ 2016 کے انتخابات میں ہلری کلنٹن کو ووٹ دیا تھا۔
مودی کو اپنے قوم پرستانہ نظریے اور انڈیا کی عظمت کو بحال کرنے کے وعدے کے سبب یہاں بہت حمایت حاصل ہے۔
تنوی مدن کہتی ہیں: ’مجھے يقین ہے کہ ری پبلیکن اس سے یہ امید کر رہے ہوں گے کہ انھیں اس طرح بعض ووٹرز مل جائيں گے۔
یہ دورہ مودی حکومت کی جانب سے مسلم اکثریتی علاقے کشمیر کی جزوی خودمختاری کو ختم کرنے اور اس خطے میں مواصلاتی پابندیوں کے نفاذ کے کچھ ہی ہفتوں بعد ہو رہا ہے۔
اس اقدام سے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ وہ بھی اس خطے پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ مسلم اداروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے انڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے۔
نسانی و سماجی حقوق کے کارکنان کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے مودی سے ہاتھ ملانے کو ان کی پالیسیوں کی حمایت کے طور پر دیکھا جائے گا۔
انسانی حقوق کے وکیل اور انڈین برادری کے رکن ارجن سیٹھی کہتے ہیں کہ ’یہ ایک غلطی ہے۔ ٹرمپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ’ہاؤڈی مودی‘ یعنی خوش آمدید مودی کے بجائے ’آڈیوس مودی‘ یعنی الوداع مودی کہنا چاہیے۔
ٹگرز یونیورسٹی کی پروفیسر آڈری ٹرشکی نے ٹویٹ کیا: ’مجھے پتہ نہیں کہ مودی کا ٹرمپ کے ساتھ کھڑا ہونا زیادہ شرمناک ہوگا یا ٹرمپ کا مودی کے ساتھ کھڑا ہونا۔ دونوں ممالک کے لیے میری تعزیت۔‘
دوسری جانب ہزاروں مظاہرین جن میں زیادہ تر مسلمان ہوں گے وہ اس مقام پر انڈین وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے یکجا ہونے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
ہیوسٹن کے سٹیج پر جلوہ افروز ہونے کے چند روز بعد ہی مودی گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے اپنی ’کلین انڈیا‘ مہم کے لیے اعزاز سے نوازے جائیں گے۔ اس مہم کے تحت انڈیا میں لاکھوں ٹوائلٹ بنائے گئے ہیں۔
مظاہرین اس ایوارڈ کا کشمیر میں مودی کے اقدامات کی جانب توجہ مبذول کروانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انھوں نے ایک لاکھ دستخط کے ساتھ گیٹس فاؤنڈیشن کے سیاٹل میں واقع ہیڈ کوارٹر میں ایک پٹیشن داخل کی ہے کہ اس ایوراڈ کو منسوخ کر دیا جائے۔
مسٹر سیٹھی نے انڈین سکیورٹی فورسز کی جانب سے کشمیر میں تشدد کے الزامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ ایک کمرے میں ٹوائلٹ بناتے ہیں اور دوسرے کمرے میں ایک شخص پر تشدد کرتے ہیں تو آپ انسانی حقوق کے اعزاز کے لائق نہیں ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں

مائیں اپنی پسند کا لباس پہن سکتی ہیں

مائیں اپنی پسند کا لباس پہن سکتی ہیں

فرانس:سیاستدان کے رویے کی وجہ سے مسلم خاتون کے ساتھ بیٹھا ان کا بچہ بھی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے