دنیا میں پہلی بار تیل کے لیے کہاں ڈرل کیا گیا تھا

دنیا میں پہلی بار تیل کے لیے کہاں ڈرل کیا گیا تھا

دنیا میں پہلی بار تیل کے لیے کہاں ڈرل کیا گیا تھا؟ اور دوسرا یہ کہ عالمی تخمینوں کے مطابق کس ملک کے پاس خام تیل کے سب سے زیادہ ذخائر موجود ہیں؟
اگر آپ نے ان میں سے کسی بھی سوال کا جواب سعودی عرب دیا تو آپ غلط ہیں

سب سے پہلے تیل چوتھی صدی میں چین میں ڈرل کیا گیا تھا۔ اس ڈرلنگ کے لیے کوئی مشینیں موجود نہیں تھی اس لیے ایسا لمبے لمبے بانسوں کی مدد سے سے کیا گیا اور کالے رنگ کا چپکنے والا مادہ نکالا گیا جو بعد میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوا۔
تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے مطابق اس کے ممبران ممالک میں 2018 کے اختتام تک کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ خام تیل کے ذخائر لاطینی امریکہ کے ملک وینیزویلا کے پاس ہیں جبکہ دوسرا اور تیسرا نمبر بالترتیب سعودی عرب اور ایران کا ہے۔
وینیزویلا کے پاس 302.81 بلین بیرل تیل کے ذخائر ہیں جبکہ سعودی عرب کے پاس یہ ذخائر 267.03 بلین بیرل ہیں۔ ایران 155.60 بلین بیرل کے ساتھ تیسرے اور عراق 145.02 بلین بیرل کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔
اوپیک کے پاس دنیا کے تیل کے ذخائر کا 79.4 فیصد حصہ ہے جس میں سے زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں۔

سعودی عرب میں تیل کب دریافت ہوا

سعودی عرب میں پہلی مرتبہ تیل مارچ 1938 میں ایک امریکی کمپنی کے اشتراک سے دمام آئل فیلڈ سے 1440 میٹر کی گہرائی سے نکالا گیا۔
امریکی کمپنی سٹینڈرڈ آئل کمپنی آف کیلیفورنیا تھی۔ پہلے اس کا نام کیلیفورنیا اریبیئن سٹینڈرڈ آئل کمپنی رکھا گیا جو بعد میں عربیئن امیریکن آئل کمپنی (آرامکو) بن گیا۔ سروے اور ڈرلنگ تو 1935 سے ہی شروع ہو گئی تھی لیکن 1938 میں دمام کے نمبر 7 آئل فیلڈ سے تیل کی پیداوار بھی شروع ہو گئی۔ ریکارڈ کے مطابق 1939 میں پہلا ٹینکر تیل برآمد کرنے کے لیے نکلا اور یہاں سے ہی حقیقت میں سعودی عرب معاشی طور پر پروان چڑھنے لگا۔

آرامکو سعودی آرامکو کب بنا

1949 میں امریکی کمپنیوں کا مجموعہ آرامکو یومیہ 500,000 بیرل خام تیل پیدا کرنے لگا تھا۔ 1958 میں آرامکو نے ایک کیلینڈر سال میں خام تیل کی پیداوار 10 لاکھ بیرل سے زیادہ کر لی اور اس طرح آرامکو کا سعودی عرب کے تیل پر کنٹرول بڑھتا رہا۔ بالآخر 1980 میں سعودی عرب نے فیصلہ کیا کہ امریکی کمپنیوں سے تیل کے سبھی اثاثے خرید لیے جائیں اور اس طرح 1988 میں سعودی عریبیئن آیل کمپنی یا سعودی آرامکو کا قیام ہوا۔ کمپنی کے امریکی مالکوں نے سعودی عرب چھوڑنے کے بعد شیورون، ٹیکساکو اور ایگزون موبیل جیسی تیل کی کمپنیاں بنائیں۔

آرامکو پر کنٹرول اور شاہ فیصل

23 ستمبر 1932 کو سعودی عرب قیام میں آیا تھا اور شاہ عبدالعزیز اس کے پہلے بادشاہ بنے۔ تیل کی دریافت کے وقت عبدالعزیز ہی سعودی عرب کے فرمانروا تھے۔ 1953 میں ان کے انتقال کے بعد شاہ سعود بادشاہ بنے۔ 1964 میں ان کے بھائی فیصل نے انھیں معزول کیا اور اقتدار کی گدی سنبھال لی۔ شاہ فیصل کے دور میں ہی 1972 میں پہلی مرتبہ سعودی عرب نے آرامکو کا 20 فیصد کنٹرول حاصل کر لیا۔ 1973 میں شاہ فیصل کی قیادت میں سعودی عرب نے ان مغربی ممالک کو تیل سپلائی کرنے کا بائیکاٹ کیا جنھوں نے مصر اور شام کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی حمایت کی تھی۔ سعودی عرب کا ایسا کرنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں یکایک چار گنا زیادہ اضافہ ہو گیا۔
پیٹرولیم لاطینی زبان میں دو لفظوں پیٹرو اور اولیم کا مرکب ہے۔ پیٹرو کا مطلب ہے پتھر اور اولیم کا مطلب ہے تیل۔
جدید دور میں سب سے پہلے تیل امریکہ میں 1859 میں نکالا گیا۔ کرنل ایڈورڈ ڈریک نے امریکہ کی ریاست پینسلونیا میں 27 اگست 1859 کو تیل کے ذخائر دریافت کیے جو صرف 12 میٹر گہرائی پر تھے۔
1890 میں تیل کی پیداوار کی وجہ سے گاڑیوں کو وسیع پیمانے پر بنانا شروع کر دیا گیا۔
25 مارچ 1975 کو شاہ فیصل کے سوتیلے بھائی کے بیٹے فیصل بن مساعد نے ایک مجلس میں سب کے سامنے شاہ فیصل کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ وہ اس وقت اپنے بھتیجے سے گلے ملنے والے ہی تھے۔ فیصل بن مساعد شاہ فیصل کے قتل سے پہلے امریکہ میں رہا کرتے تھے اور کچھ ہی عرصہ پہلے وہاں سے واپس آئے تھے۔ فیصل بن مساعد کا اسی سال 18 جون کو سر قلم کر دیا گیا۔ شاہ فیصل کے بعد ان کے بھائی خالد سعودی عرب کے بادشاہ بنے۔
اس وقت سعودی عرب کے پاس دنیا کے 18 فیصد پیٹرولیم ذخائر ہیں اور پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی ہے کہ کیا یہ موجود ذخائر کے حوالے سے اعداد و شمار بالکل درست ہیں۔ گذشتہ پانچ دہائیوں سے اس سوال کا جواب تیل کے ذخائر کے ماہرین کے لیے ایک راز ہے۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے 2015 کے اندازوں کے مطابق سعودی عرب کے پاس 267 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں اور اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو سعودی عرب کا تیل آئندہ 70 سالوں میں ختم ہوگا۔ اس حساب کے لیے اوسطً روزانہ 12 لاکھ بیرل کے استعمال کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
سعودی سرکاری اعداد و شمار کے بارے میں شکوک موجود ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ 1987 میں سعودی عرب نے اپنے ذخائر کی تعداد کے بارے میں کہا تھا کہ وہ 170 ارب بیرل ہیں۔ تاہم 1989 میں انھوں نے اس تخمینے کی تعداد بڑھا کر 260 ارب بیرل کر دی تھی۔
2016 کے سٹیٹسٹیکل ریوو آف ورلڈ انرجی کے مطابق سعودی عرب اب تک 94 ارب بیرل تیل فروخت کر چکا ہے۔ تاہم ان کے سرکاری ذرائع کے مطابق ان کے پاس اب بھی 260 سے 265 ارب بیرل تیل موجود ہیں۔
اگر حکومتی اطلاعات درست ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یا تو سعودی عرب نے تیل کے نئے ذخائر دریافت کیے ہیں یا پھر انھوں نے موجودہ ذخائر کا دوبارہ جائزہ لے کر انھیں تبدیل کر دیا ہے۔
ذخائر میں اضافے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جن ٹھکانوں سے تیل برآمد ہو رہا ہے وہیں اور تیل نکل آیا ہے یا وہ کنویں پھر سے بھر گئے ہیں۔
سعودی عرب میں 1936 سے 1970 کے درمیان تیل کے بے شمار ذخائر دریافت ہوئے۔ اس کے بعد قدرے نئی دریافتیں نہیں ہوئیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ جہاں جہاں تیل کی پیداوار ہو رہی ہے اس کی تفصیلات یا ذخائر کے بارے میں حکومت ہر بات خفیہ رکھتی ہے اور اس کی تفصیل کچھ ہی لوگوں کو معلوم ہوتی ہے۔
ایسے میں کسی بھی بات کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔
یہ بات یقین سے نہیں بتا سکتے کہ سعودی عرب میں تیل کی پیداوار کب کم ہونی شروع ہوگی۔
تیل کے ذخائر کا تخمینہ لگانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس بات کا اندازہ لگایا جائے کہ پیداوار شروع ہونے سے پہلے کتنے ذخائر موجود تھے۔ اس اندازے کو او او آئی پی کہا جاتا ہے۔ 1970 کی دہائی میں اس بات پر اتفاق رائے موجود تھا کہ سعودی عرب میں 530 ارب بیرل او او آئی پی موجود تھے۔
سعودی او او آئی پی کے بارے میں معلومات سعودی عرب اور امریکہ کی مشترکہ آئل کمپنی آرمکو کے لیے امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے عالمی معاشی پالیسی نے دی تھیں۔
اخبار گلف نیوز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2019 کے پہلے نصف میں آرامکو نے 46.9 ارب ڈالر کا منافع کمایا ہے جو کہ گذشتہ سال سے 12 فیصد کم ہے۔
سعودی آرامکو کی اقتصادی رپورٹ کے مطابق کمپنی پبلک میں مزید شیئرز بیچنا چاہتی ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ وہ آرامکو کے 5 فیصد شیئر لسٹ کرنا چاہتے ہیں۔ آرامکو کے سی ای او امین ناصر نے بھی اس بارے میں کہا ہے کہ وہ جلد ہی ریاض کی سٹاک ایکسچینج میں کمپنی کے شیئرز لسٹ کریں گے۔
آرامکو کی لسٹنگ کی بنیادی وجہ ولی عہد محمد بن سلمان کا وہ منصوبہ ہے جس کے تحت سعودی عرب کی معیشت کا انحصار تیل پر کم کر کے اسے وسیع بنیادوں پر پھیلایا جائے گا۔ اسے 2030 وژن کہا جا رہا ہے اور سعودی عرب میں اس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔
سعودی عرب اپنے قیام سے ہی تیل کی معیشت پر انحصار کرتا رہا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا 20 لاکھ مربع کلو میٹر رقبے پر محیط یہ تین کروڑ تیس لاکھ کی آبادی والا ملک جس میں سے 70 لاکھ صرف دارالحکومت ریاض میں رہتے ہیں اپنی معیشت کو تیل کے بغیر مضبوط بنا پائے گا اور کیا سعودی عرب کے عوام اپنا رہن سہن ان لوگوں کی طرح کر پائیں گے جن کا تعلق تیل پر انحصار کے بغیر معیشتوں والے ممالک سے ہے۔ لیکن ان سب کے لیے خطے میں امن و استحکام بہت ضروری ہے اور موجودہ حالات میں یہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مائیں اپنی پسند کا لباس پہن سکتی ہیں

مائیں اپنی پسند کا لباس پہن سکتی ہیں

فرانس:سیاستدان کے رویے کی وجہ سے مسلم خاتون کے ساتھ بیٹھا ان کا بچہ بھی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے