اس سال کتے کے کاٹنے کے 60 ہزار کیسز سامنے آئے

اس سال کتے کے کاٹنے کے 60 ہزار کیسز سامنے آئے

کراچی: خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ صوبے میں لاکھوں کی تعداد میں جنگلی کتے موجود ہیں، کراچی میں اس سال کتے کے کاٹنے کے 60 ہزار کیسز سامنے آئے۔ عذرا پیچوہو نے خود اعتراف کیا کہ ہمارے پاس ویکسین موجود نہیں

سندھ میں انسانوں کے بچاؤ کی بیشتر دوائیں دستیاب ہی نہیں، دنیا میں کتوں کو مارا نہیں جاتا بلکہ انہیں مخصوص جگہ پر رکھا جاتا ہے۔ کتوں کے کاٹنے کے ناقابل برداشت واقعات رونما ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز شکار پور میں ایک بچے نے کتے کے کاٹنے کی وجہ سے ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی تھی، بچے کو تشویشناک حالت میں سول اسپتال شکار پور لے جایا گیا لیکن اسپتال میں اینٹی ریبیز ویکیسن نہ ہونے پر بچہ دم توڑ گیا۔
متاثرہ بچے کو شہید بے نظیر بھٹو اسپتال لاڑکانہ بھی لے جایا گیا لیکن وہاں بھی ویکسین نہ تھی، والدین بچے کو لے کر در بدر پھرتے رہے پر ویکسین نہ ملی۔

یہ بھی پڑھیں

عدالت نے آغا سراج کے خلاف ریفرنس کا ٹرائل تیز کرنے کا حکم دیا

عدالت نے آغا سراج کے خلاف ریفرنس کا ٹرائل تیز کرنے کا حکم دیا

کراچی: عدالت نے کہا کہ مفرور ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو انہیں کیس سے الگ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے