تاجروں و صنعتکاروں کا دباو اور ردعمل کام دکھا گیا

تاجروں و صنعتکاروں کا دباو اور ردعمل کام دکھا گیا

اسلام آباد: ایف بی آر نے انکم ٹیکس افسران کو کاروباری یونٹس و کاروباری مراکز پر چھاپے مارنے اور کاروباری یونٹس میں موجود ریکارڈ ،کمپیوٹر اور اکاونٹس سمیت دیگر ریکارڈ تک رسائی کو مخصوص حالات تک محدود کردیا ہے

خصوصی حالات میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی ٹیمیں متعلقہ چیف کمشنر کی پیشگی اجازت سے کسی کاروباری یونٹ کا دورہ کرسکیں گی۔ اس بارے میں ایف بی آر کی جانب سے تمام فیلڈ فارمشنز کو تحریری طورپر آگاہ کردیا گیا ہے۔
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اسپیشل اسسٹنٹ(ایس اے) زبیر بلال کی جانب سے فیلڈ فارمنشز کو بھجوائے جانیوالے مراسلے کی ایکسپریسکو دستیاب کاپی میں بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ متعدد آفیشلز اور سٹاف انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 175(1) کے تحت حاصل اختیارات کا غلط استعمال کررہے ہیں۔
لہٰذا ہدایت کی جاتی ہے کہ آئندہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 175(1) کے تحت حاصل اختیارات صرف مخصوص حالات میں استعمال کئے جاسکیں گے اور اس کیلئے بھی متعلقہ فیلڈ فارمشنز کے انکم ٹیکس آفیشئلز اور سٹاف کو متعلقہ ریجن کے چیف کمشنر سے پیشگی اجازت لینا ہوگی لیٹر میں متنبہ کیا گیا ہے کہ آئندہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 175(1) کے تحت حاصل اختیارات کے غلط استعمال کی شکایت پر سخت کاروائی کی جائے گی ۔

یہ بھی پڑھیں

کوئی ایسا ایشو نہیں ہے جس کی وجہ سے مولانا دھرنا دے رہے ہیں

کوئی ایسا ایشو نہیں ہے جس کی وجہ سے مولانا دھرنا دے رہے ہیں

اسلام آباد: حکومت چھوڑ دیں، یہ ناممکن ہے، بیانات ابتدا میں سخت آتے ہیں لیکن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے