ای سگریٹ کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اس کی فروخت پر پابندی کا اعلان کیا ہے

ای سگریٹ کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اس کی فروخت پر پابندی کا اعلان کیا ہے

امریکہ : عالمی ادارۂ صحت کے مطابق عالمی سطح پر تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں ایک چھوٹی لیکن مستقل کمی واقع ہوئی ہے جو ایک ارب سے تھوڑی زیادہ ہے

 

پوری دنیا میں ویپنگ یا ای سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ سنہ 2011 میں یہ تعداد 70 لاکھ تھی جو سنہ 2018 میں بڑھ کر 41 ملین ہو گئی ہے۔
مارکیٹ ریسرچ گروپ ’یورو مانیٹر‘ کے ایک جائزے کے مطابق سنہ 2020 تک ویپنگ کرنے والوں کی تعداد 55 ملین ہو جائے گی۔
ای سگریٹ کا بازار تیزی سے بڑھ رہا ہے کیونکہ پوری دنیا میں ویپنگ کرنے والوں میں تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی سطح پر ای سگریٹ کے کاروبار کی کل مالیت تقریباً 19.3 بلین ڈالر ہے جو پانچ برس قبل صرف 6.9 بلین ڈالر تھی۔
دنیا میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس ویپنگ کے سب سے بڑے بازار ہیں۔ سنہ 2018 میں ان تین ممالک کے افراد نے بغیر دھویں والے تمباکو اور ویپنگ کی مصنوعات پر 10 بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ فوڈ اینڈ ٹرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) ایک ایسے منصوبے کو حتمی شکل دے گا جس کے تحت امریکہ میں ویپنگ سے متعلق مصنوعات کی خرید و فرخت پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ کی 33 ریاستوں میں ویپنگ کے باعث چھ افراد کی ہلاکت اور پھیپھڑوں کی بمیاریوں کے 450 معاملات سامنے آئے ہیں۔
اس وقت بازار میں دو طرح کے ای سگریٹ زیادہ مقبول ہیں جن کو ’اوپن اور کلوزڈ سسٹم‘ یا ’اوپن اور کلوذڈ ٹینک‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اوپن سسٹم میں جو مائع ویپنگ میں استمعال کیا جاتا ہے اس کو سگریٹ استعمال کرنے والا شخص خود بھر سکتا ہے۔
کلوزڈ سسٹم میں ریڈی میڈ ریفلس کا استعمال ہوتا ہے جو ای سگریٹ کی بیٹری پر براہ راست چلاتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق اس برس صارفین پہلی بار کلوزڈ سسٹم ای سگرٹ پر اوپن سسٹم ای سگریٹ کی نسبت زیادہ رقم خرچ کریں گے جو کہ تقریبا دس بلین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
سنہ 2016 میں ’ارنسٹ اینڈ ینگ‘ نامی تنظيم کے مطابق ویپنگ کرنے والے بیشتر افراد ای سگریٹ مخصوص طور پر ویپنگ کی مصنوعات فروخت کرنے والی دکانوں سے خریدتے ہیں۔
برطانیہ میں ویپنگ کی دکانیں بہت عام ہو رہی ہیں۔ سنہ 2019 میں یہاں ویپنگ کی مصنوعات فروخت کرنے والے 69 نئے سٹور کھلے ہیں۔
ویپنگ کے باعث ہونے والی اموات اور سانس کی بیماریاں سامنے آنے کے بعد ریاست مشی گن پہلی امریکی ریاست ہے جہاں وپینگ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہاں متاثرین کی اوسط عمر 19 برس بتائی جاتی ہے۔
برطانیہ میں ڈاکٹرز، ماہرین صحت اور کینسر کے خلاف کام کرنے والی تنظیمیں اس بات پر متفق ہیں کہ موجود شواہد کے مطابق عام سگریٹ کے مقابلے میں ای سگریٹ بہت کم خطرے کے حامل ہوتے ہیں۔
آزادانہ طور پر کیے گئے ایک جائزے کے مطابق ای سگریٹ تمباکو نوشی کے مقابلے میں 95 فیصد کم نقصان دہ ہے۔ جائزہ رپورٹ تحریر کرنے والی پروفیسر این میک نیل کہتی ہیں ’ای سگریٹ عوامی صحت کے لیے ایک ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
برطانیہ میں ای سگریٹ کے مواد کے حوالے سے امریکہ سے زیادہ سخت قوانین موجود ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں ای سگریٹ میں نکوٹین کی مقدار کی حد مقرر ہے جبکہ امریکہ میں ایسا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مائیں اپنی پسند کا لباس پہن سکتی ہیں

مائیں اپنی پسند کا لباس پہن سکتی ہیں

فرانس:سیاستدان کے رویے کی وجہ سے مسلم خاتون کے ساتھ بیٹھا ان کا بچہ بھی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے