4 اکتوبر کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی طرف پرامن آزادی مارچ کرنے کا اعلان

4 اکتوبر کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی طرف پرامن آزادی مارچ کرنے کا اعلان

مظفرآباد: بھارت کے زیرقبضہ کشمیر میں محصور عوام سے اظہار یکجہتی، مقبوضہ وادی میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی طرف عالمی برادری کی توجہ دلانے اور اس مسئلے کے مستقل اور جمہوری طریقے سے ترجیحی بنیادوں پر حل کے لیے ہم نے ایک انقلابی فیصلہ کیا ہے

بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کرکے وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا تھا، جبکہ اسی روز سے وہاں کرفیو نافذ کرکے مواصلاتی نظام معطل کردیا تھا۔
ایل او سی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘بعدازاں ہم خونی لائن یا سیزفائر لائن جو جموں و کشمیر کو چھکوٹھی سیکٹر سے علیحدہ کرتی ہے اسے روند دیں گے’۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ راولپنڈی میں 30 اگست کو ہونے والی جے کے ایل ایف کی سب سے سے بااختیار ‘سپریم کونسل’ اور آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی زونل ورکننگ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا تھا۔
جے کے ایل ایف کے ترجمان نے کہا کہ بھارت نے پوری وادی کو فوجی حراستی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے، لوگوں کو اپنے گھروں میں محصور کردیا ہے اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں جبکہ مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جے کے ایل ایف کے سربراہ یٰسین ملک پہلے ہی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید تنہائی میں ہیں جبکہ حریت قیادت سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق بھی نظربند ہیں۔
اگر آزاد کشمیر کی حکومت ہمارے ساتھ 4 اکتوبر سے پہلے یا بعد میں ایل او سی کے اس پار چانے والے مارچ میں شامل ہوتی ہے تو جے کے ایل ایف قومی اتفاق رائے کی خاطر تاریخ کو دوبارہ ایڈجسٹ کرنے کے لیے تیار ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

حکومت کی جانب سے 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈز جمع کروانے کی شرط مسترد کی

حکومت کی جانب سے 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈز جمع کروانے کی شرط مسترد کی

اسلام آباد: سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے