لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ایک چھوٹے سے طبقے کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیز اور غیر قانونی سرگرمی کی مذمت

لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ایک چھوٹے سے طبقے کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیز اور غیر قانونی سرگرمی کی مذمت

لندن: میئر کے ترجمان نےگفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’میئر پرامن اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرنے کی حمایت کرتے ہیں، انہوں نے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ایک چھوٹے سے طبقے کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیز اور غیر قانونی سرگرمی کی مذمت کی

میئر کی جانب سے یہ بیان مودی مخالف مارچ کے ایک روز بعد دیا گیا جس میں پاکستان اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی نعرے لگائے تھے۔
احتجاج کا انتظام جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نے کیا تھا، میئر لندن نے احتجاج کے دوران بھارتی ہائی کمشین کی عمارت کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات کی مذمت کی۔
اس حوالے سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بھارتی مشن نے کہا تھا کہ ’پرتشدد‘ احتجاج میں ہائی کمیشن کو نقصان پہنچایا گیا۔
جس کے جواب میں میئر لندن صادق خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس ناقابلِ قبول رویے کی مذمت کرتا ہوں اور کارروائی کے لیے یہ معاملہ میٹرو پولیٹن پولیس کے سامنے بھی اٹھایا گیا ہے‘
بھارتی ہائی کمیشن نے ایک تصویر بھی شیئر کی تھی جس میں ایک شیشہ چٹخا ہوا اور کھڑکی بظاہر انڈوں سے آلودہ نظر آرہی تھی۔
احتجاج کے بعد میٹرو پولیٹن پولیس نے بتایا تھا کہ پاکستانیوں اور بھارتیوں کے مابین جھڑپ کے نتیجے میں 4 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف لندن میں بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ہونے والے مظاہروں پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے شکایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: فوجی بھیجنے کا فیصلہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے