ریسرچ اینڈ انالسز ڈویژن کی سالانہ دی گلوبل لائیوبلیٹی انڈیکس 2019 رپورٹ جاری

ریسرچ اینڈ انالسز ڈویژن کی سالانہ دی گلوبل لائیوبلیٹی انڈیکس 2019 رپورٹ جاری

کراچی : ہر سال کی طرح اس سال بھی کراچی اس فہرست کے آخری 10 شہروں میں شامل ہوا اور 140 میں سے اس کا 136واں نمبر ہے

ر سال ای آئی یو دنیا کے 140 ممالک کی فہرست جاری کرتا ہے جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے شہروں میں رہن سہن، جرائم کی شرح، ٹرانسپورٹ کا نظام، انفرا اسٹرکچر، صحت اور تعلیمی سہولیات تک رسائی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشی استحکام شامل ہوتا ہے۔
کراچی صرف شام کے شہر دمشق، نائیجیریا کے لاگوس، بنگلہ دیش کے ڈھاکا اور لیبیا کے طرابلس سے بہتر ہے
جو شہر کم ترین قابل رہائش 10 شہروں میں شامل ہیں ان میں وینزویلا کا کاراکاس، الجزائر کا الجیئرس، کیمرون کا دوالا، زمبابوے کا ہرارے اور پپوا نیو گنی کا مورس بے شامل ہے۔
ای آئی یو نے ان شہروں کا 100 پوائنٹس کی ریٹنگ کے ساتھ تجزیہ کیا ہے جس میں کراچی کو استحکام میں 20، صحت عامہ میں 45.8، ثقافت اور ماحولیات میں 38.7، تعلیم میں 66.7 اور انفرا اسٹرکچر میں 51.8 پوائنٹس دیے گئے۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال کراچی کی رینکنگ میں ایک درجہ بہتری آئی ہے۔
گزشتہ سال ای آئی یو کی جاری کردہ اس فہرست میں کراچی کا 137واں نمبر تھا۔
فہرست میں دیکھا گیا ہے کہ دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور نامناسب پانی کی فراہمی کی وجہ سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی 118ویں اور مصری دارالحکومت قاہرہ 125ویں نمبر پر چلے گئے۔
ای آئی یو کے ایک عہدے دار اگاتھی ڈیمارائس کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی مستقبل میں اس فہرست پر بڑی حد تک اثر انداز ہوگی۔
دنیا کے سر فہرست قابل رہائش شہروں میں آسٹریا کا دارالحکومت ویانا شامل ہے جس نے گزشتہ برس ہی آسٹریلیا کے شہر میلبرن سے پوزیشن چھینی تھی۔
آسٹریلیا کا شہر میلبرن اس سے قبل مسلسل 7 سال تک دنیا کے قابل رہائش شہروں میں صف اول پر رہا ہے۔
اس فہرست میں تیسرے نمبر پر بھی آسٹریلیا کا شہر سڈنی، چوتھے نمبر پر جاپانی شہر اوساکا اور پانچویں نمبر پر کینیڈین شہر کیلگری شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

کراچی: قانونی مسودے کی سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد کراچی کے تمام ساحل سندھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے