جو وعدے کیے گئے اگر وہ پورے نہ ہوئے تو تہران کی طرف سے معاہدے پر یکطرفہ عمل کرنا بے معنی ہوگا

جو وعدے کیے گئے اگر وہ پورے نہ ہوئے تو تہران کی طرف سے معاہدے پر یکطرفہ عمل کرنا بے معنی ہوگا

تہران: معیشت کو استحکام دینے میں مدد نہ کی تو وہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو مزید کم کردے گا

ایران کے وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے کہا کہ جوہری معاہدے میں جو وعدے کیے گئے اگر وہ پورے نہ ہوئے تو تہران کی طرف سے معاہدے پر یکطرفہ عمل کرنا بے معنی ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی یہی بات دہراتے ہوئے کہا کہ اگر یورپی ممالک 2015 کے جوہری معاہدے کی حفاظت کے لیے اگر کوئی اقدامات نہیں کرتے تو تہران اپنے وعدوں کو کم کرنے کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنا تیسرا اقدام ترتیب دے دیا ہے جو پہلے اور دوسرے اقدام سے بھی زیادہ مضبوط ہے جس کا مقصد ایرانی حقوق اور نیوکلیئر معاہدے کے درمیان توازن بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: فوجی بھیجنے کا فیصلہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے