بلوچستان عوامی پارٹی کے بڑے بڑے عوامی اجتماعات کا پروگرام

بلوچستان عوامی پارٹی کے بڑے بڑے عوامی اجتماعات کا پروگرام

کوئٹہ: کراچی پارٹی کی سینئر قیادت کی جانب سے ذمہ داری ملنے کے بعد میر جان محمد جمالی نے پارٹی کو نچلی سطح سے منظم و فعال کرنے کا آغاز کردیا ہے

صوبہ خیبر پختونخوا سے مزید سینیٹرز اور ارکان اسمبلی بھی آئندہ چند روز میں بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ۔ اسی طرح سندھ اور پنجاب میں بھی رابطے کئے جا رہے ہیں ۔ جبکہ ملک بھر میں بلوچستان عوامی پارٹی کے بڑے بڑے عوامی اجتماعات کا بھی پروگرام ہے پارٹی کا نام بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔
نئی سیاسی جماعت کو ملک گیر سطح پر متعارف کرانے کا پروگرام ایک مشکل ٹاسک ہے لیکن نا ممکن نہیں کیونکہ عوام بڑی سیاسی جماعتوں کے دعوئوں اور رویوں سے تنگ آگئے ہیں ملک میں تبدیلی لانے کی دعویدار جماعت تحریک انصاف سے بھی عوام مایوس ہوگئے ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی اپنے مضبوط منشور کے ساتھ اگر آگے آتی ہے تو اسے عوام میں پذیرائی مل سکتی ہے اس کیلئے بلوچستان عوامی پارٹی کی صوبے میں کارکردگی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ان سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان میں برسراقتدار جماعت بی اے پی کو اپنی اُڑان کیلئے کافی محنت کی ضرورت ہے کیونکہ گزشتہ ایک سال کے دوران بی اے پی حکومت اُس طرح کارکردگی نہیں دکھا سکی جو وعدے انتخابات میں کئے گئے تھے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال جو کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی صدر بھی ہیں نے صوبے میں ترقی کا ایک وژن دیا ہے جس پر کام کا آغاز تو ہوگیا ہے لیکن سست روی کا شکار ہے اس میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔
پارٹی کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین بلوچستان کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور جہانگیر ترین نے ہی بلوچستان میں ہماری حکومت نہیں بننے نہیں دی حالانکہ ہم اس پوزیشن میں تھے اور ہم سے مختلف سیاسی جماعتوں نے رابطہ بھی کیا تھا کہ ہم حکومت بنا سکتے تھے۔
بلوچستان سمیت ملک بھر میں جے یو آئی (ف) نے اسلام آباد مارچ کیلئے عوامی رابطہ مہم کا آغاز بھی کردیا ہے بلوچستان میں پارٹی کے صوبائی امیر اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع سمیت دیگر عہدیداران اور پارلیمنٹرینز نے مختلف اضلاع کے ہنگامی دوروں کا آغاز کر رکھا ہے، ان سیاسی حلقوں کے مطابق جے یو آئی (ف) کی مرکزی کال پر بلوچستان سے ہزاروں لوگوں پر مشتمل قافلے اسلام آباد روانہ ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ

کوئٹہ : ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے 2018 میں حقوق انسانی کے حوالے سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے