جمشید پرستاروں کی یادوں میں آج بھی زندہ

جمشید پرستاروں کی یادوں میں آج بھی زندہ

کراچی: جنید جمشید نے نوے کی دہائی میں وائٹل سائنز میوزیکل گروپ بنایا تو تہلکہ مچا گیا ہر نوجوان کے لبوں پر بس اسی بینڈ کے گیت ہوتے تھے

لاہور کی یونیورسٹی اآف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے اینجریننگ کی ڈگری حاصل کی تھی لیکن موسیقی کو ہی اوڑھنا بچھونا بنالیا ۔وایٹل سائنز گروپ بنا کر نغمے پیش کیے تو ہر گیت پچھلے سے زیادہ مقبول ہوا لیکن پھر شہرت کے عروج پر گلوکاری چھوڑ کر نعت خوانی کی جانب رخ کیا ۔
ان کی دل نشین گفتگو کا سحر ہر کسی پر طاری ہوجاتا، دین کی طرف آئے تو پہلے سے زیادہ پرستاروں نے انہیں آنکھوں پر بٹھایا۔ جب بیان کرتے تو سب کی توجہ ان کی طرف ہی ہوتی۔ نگر نگر گھومتے دین کے اس مسافر نے کس کو بھلا متاثر نہ کیا۔ زندگی کے آخری لمحات میں بھی دین کی تبلیغ کے لیے سرگرم تھے ۔
سات دسمبر دوہزار سولہ کو جنید جمشید فضائی حادثے میں زندگی کی بازی ہار گئے لیکن ان کی آواز، ان کے مثالی کام انہیں آج بھی عوام کی یادوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

محکمہ جنگلی حیات کی رابی پیر زادہ کیخلاف کارروائی

لاہور: گلوکارہ رابی پیرزادہ کو گھر میں اژدھے، مگرمچھ اور سانپ رکھنا مہنگا پڑ گیا۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے