جے للیتا کی حالت تشویشناک

وزیر اعلیٰ جے للیتا کو اتوار کی شام دل کا دورہ پڑا تھا اور اُن کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

جے للیتا کو آپولو ہسپتال کے انتہائی نگہ داشت والے شعبے (آئی سی یو) میں منتقل کر دیا گيا ہے۔

ریاستی حکومت نے ہسپتال کے باہر جمع ان کے مداحوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سکیورٹی کا سخت انتظام کر رکھا ہے۔

خیال رہے کہ جے للیتا تمل ناڈو میں بے حد مقبول رہنما ہیں اور ان کے حامی انھیں اماں کہتے ہیں۔ وہ 22 ستمبر سے ہی آپولو ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور چند ہی روز قبل انھوں نے بطورِ وزیر اعلیٰ اپنی ذمہ داریاں نائب وزیر اعلیٰ کو سونپی تھیں۔

گذشتہ شب آپولو ہسپتال کے باہر ان کی پارٹی کے کارکنوں اور ان کے مداحوں کی بھیڑ یکجا رہی۔

انتظامیہ نے لوگوں سے افواہوں سے بچنے کے لیے کہا ہے اور واضح کیا ہے کہ سوموار کو سکول، کالج اور دفاتر کھلے رہیں گے اور امتحانات معمول کے مطابق ہوں گے۔

تمل ناڈ کے گورنر سی ودیاساگر راؤ رات میں ہی ہسپتال پہنچے۔ جے للیتا کی کابینہ کے تقریباً تمام اراکین بھی رات کو ہسپتال پہنچ گئے تھے۔

انڈیا کے صدر پرنب مکھرجی نے بھی جے للیتا کے دل کا دورہ پڑنے کی خبر سن کر دکھ کا اظہار کیا ہے اور ان کی فوری صحت یابی کی دعا کی ہے جبکہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی سمیت ملک کے سرکردہ رہنماؤں نے بھی ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

آپولو ہسپتال کی شریک مینیجنگ ڈائریکٹر سنگیتا ریڈی کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ڈاکٹر وزیر اعلیٰ کی طبیعت کا خاص خیال رکھ رہے ہیں۔ وہ ان کی صحت کی دیکھ بھال کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘

ہسپتال کے ٹوئٹر ہینڈل سے بھی وزیر اعلیٰ کی صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی گئی ہے۔

ماضی کی فلمی ہیروئن جے للیتا ریاست تمل ناڈو میں بہت مقبول ہیں اور وہ اہم علاقائی سیاسی جماعت ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ کی سربراہ ہیں۔

اُن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انتخابات کے دنوں میں لوگوں کو مختلف تحائف جیسے الیکٹرانک بلینڈر، بکریاں، سونا وغیرہ تقسیم کرتی ہیں۔

جے للیتا پر کئی بار بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے اور سنہ 2014 میں کرپشن کے مقدمات میں کچھ عرصہ انھوں نے جیل میں بھی گزارا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی معاہدے کے رکن ملکوں کے درمیان تعمیری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے