طالبان کا قندوز پر حملہ، متعدد عمارتوں پر قبضہ، افغان فورسز کے 8 اہلکار ہلاک

طالبان کا قندوز پر حملہ، متعدد عمارتوں پر قبضہ، افغان فورسز کے 8 اہلکار ہلاک

کابل: افغان طالبان نے افغانستان کے شہر قندوز پر حملہ کردیا جس کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں میں شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے ایک طرف امریکا سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تو وہیں دوسری طرف افغانستان میں تابڑ توڑ حملے کیے جارہے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق افغان طالبان نے شمالی افغانستان کے شہر قندوز پر درمیانی شب کئی اطراف سے حملہ کیا اور کئی عمارتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

طالبان اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں سیکیورٹی فورسز کی معاونت افغان فضائیہ بھی کررہی ہے۔

اِدھر افغان سیکیورٹی فورسز نے قندوز میں فضائی اور زمینی آپریشن کے دوران 35 طالبان جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ افغان میڈیا کے مطابق جھڑپوں میں 8 افغان فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

صوبائی پولیس چیف کے ترجمان سید سرور حسینی نے طالبان کے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں بجلی اور ٹیلیفون رابطے بالکل منقطع ہیں اور شہری محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں سیکیورٹی فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے جبکہ صوبائی ڈائریکٹوریٹ اور فوجی مراکز کا کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے۔

تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ شہر کا کنٹرول اب بھی حکومت کے پاس ہی ہے۔

خیال رہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اسٹریٹیجک طور پر اس اہم شہر پر پہلے بھی کئی بار حملے کیے گئے ہیں۔ 2015 میں طالبان نے قندوز پر 2 بار حملہ کیا تھا اور ستمبر 2015 میں طالبان نے دو ہفتوں کیلئے شہر کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

افغانستان میں چوبیس گھنٹوں کے دوران 2 امریکی فوجی ہلاک

علاوہ ازیں افغانستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

نیٹو کے مطابق ایک امریکی فوجی جمعے کو اور دوسرا آج ہلاک ہوا ہے تاہم دونوں فوجیوں کی ہلاکت کی وجہ اور جگہ کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

یاد رہے کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا نواں دور قطر کے دارالحکومت دوحا میں جاری ہے جس سے متعلق افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور ان کے 98 فیصد مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہیں۔

امریکی انفنٹری کے فوجی یورپ اور پیسیفک میدانوں میں فائر کرنے سے اتنا کتراتے ہیں چاہے انھیں خود شدید خطرہ ہو

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے