امریکی انفنٹری کے فوجی یورپ اور پیسیفک میدانوں میں فائر کرنے سے اتنا کتراتے ہیں چاہے انھیں خود شدید خطرہ ہو

امریکی انفنٹری کے فوجی یورپ اور پیسیفک میدانوں میں فائر کرنے سے اتنا کتراتے ہیں چاہے انھیں خود شدید خطرہ ہو

جنرل مارشل نے لکھا کہ ’انفنٹری کے کسی کمانڈر کا یہ ماننا درست ہوگا کہ جب لڑائی ہو تو اس کے صرف ایک چوتھائی فوجی ہی دشمن کو کوئی نقصان پہنچائیں گے

انھوں نے کہا کہ ’ایک چوتھائی کا یہ تناسب تربیت یافتہ اور لڑائی کے منجھے ہوئے فوجیوں کے لیے ہے۔ میرے خیال میں تین چوتھائی فائر نہیں کریں گے۔ انھیں خطرہ بھی ہوگا تو وہ لڑیں گے نہیں۔‘
بعد میں جنرل مارشل نے یہ تناسب تین چوتھائی سے بھی بڑھا دیا۔
مگر کیا وجہ ہے کہ امریکی انفنٹری کے فوجی یورپ اور پیسیفک میدانوں میں فائر کرنے سے اتنا کتراتے ہیں چاہے انھیں خود شدید خطرہ ہو۔
جنرل مارشل کے خیال میں اس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ کسی بھی ٹیم میں چند ہی لوگ ہوتے ہیں جو زیادہ تر کام کرتے ہیں اور تہزیبی اعتبار سے امریکیوں میں جارحیت سے خوف پایا جاتا ہے جو انھیں لڑنے نہیں دیتا۔
فوجیوں کو جنگ میں فطری طور پر فائرنگ کرنے کی تربیت کی ضرورت تھی تاکہ وہ نہ جزباتی ہوں نہ ہی زیادہ سوچیں۔
جنرل مارشل نے یہ نتحجہ اخذ کیا کہ امریکی فطری طور پر بہت زیادہ پرامن ہیں اس لیے ایسے طریقے متعارف کروائے گیے جس میں اگلے کو مار ڈالنا ان کی فطرت کا حصہ بن جائے اور ایک فوجی میں سے انسانیت کی محبت نکال دی جائے۔
معروف برطانوی فوجی تاریخ دان سر جان کیگن کا خیال ہے کہ جنرل مرشل کا مقصد صرف تجزیہ کرنا نہیں تھا بلکہ ان کا ہدف امریکی فوج کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ وہ جنگیں درست انداز میں نہیں لڑ رہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ان کی باتیں نہ صرف موثر ثابت ہوئیں بلکہ انھیں ایک تاریخ دان کی حیثیت سے یہ عجیب موقع بھی ملا کہ ان کے اسباق کو ان کی زندگی میں ہی نہ صرف تسلیم کر لیا گیا بلکہ عمل میں بھی لایا گیا۔‘
مارشل نے خود دعویٰ کیا کہ ان کی تحقیق کی بدولت فوج نے موثر انداز میں جنگ کی تربیت دی اور فائر کرنے کا تناسب بہتر ہوا۔
انھوں نے کوریائی جنگ میں اپنی تحقیق جاری رکھی اور پتا چلا کہ فائر کرنے والے فوجیوں کا تناسب 55 فیصد تک بڑھ گیا۔
ویتنام کی جنگ میں یہ فائر کرنے کا تناسب اور بھی بڑھ گیا اور ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ 90 فیصد فوجی دوسرے انسانوں پر فائر کرنے لگے۔
جنرل مارشل نے لڑائی کے بعد انٹرویو کرنے کا طریقہ متعارف کروایا۔
وہ فرنٹ لائن کمپنیوں کا دورہ کرتے (ان کا دعویٰ تھا انھوں نے 400 کمپنیوں سے بات کی) اور پھر ان فوجیوں سے بات کرتے جنھوں نے لڑائی میں شرکت کی۔
فوجی اپنا شناخت ظاہر کیے بغیر بتاتے کہ لڑائی کے دوران انھوں اور ان کے ساتھیوں نے کیا کیا اور ان باتوں کے نوٹس بنائے جاتے۔ البتہ جنرل مارشل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ بہت کم یہ نوٹس بعد میں ملے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے کبھی ان فوجیوں کے انٹرویو نہیں کیے جو زخمی ہوئے یا ظاہر ہے جو ہلاک ہوگئے۔
ساری تحقیق سے جنرل مارشل اس نتیجے پر پہنچے کہ امریکی فوجیوں کی زیادہ تر تعداد جرمن یا جاپانی فوجیوں پر فائر کرنے سے گھبراتے تھے۔
ان کا خیال تھا کہ فوجی مرنے سے نہیں مارنے سے ڈرتے تھے۔
ان واشنگٹن ڈی سی میں جرنیلوں نے ان کی یہ بات سنی۔
شروع میں امریکی نشانہ بازوں کو بلز آئی کے انداز کے ایک ہدف پر تربیت دی جاتی تھی۔
مگر اصلی جنگ کی صوتحال سے یہ ماحول بہت کم مماثلت رکھتا تھا اور اس سے فوجی کسی اصل انسان پر گولی چلانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی فوج نے انسانی شکل کے ہدف تربیتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیے۔
امید کی جا رہی تھی کہ اس سے جارحیت کا خوف ختم ہو جائے گا۔
اہداف مختلف فاصلوں پر لگے ہونے کے بجائے ایک دم سے سامنے آنے لگے اور نشانہ بازوں کو کہا گیا کہ فوری گولی چلائیں تاکہ فطری طور پر ان کا ردِعمل فائر کرنا بن جائے۔
ویتنام کی جنگ تک فوجیوں کے آمنے سامنے ایک دوسرے سے ہاتھوں ہاتھ لڑنا کم ہوتا جا رہا تھا۔ لیکن بندوقوں کی نالیوں پر لگے چھُروں کے استعمال کی تربیت جاری رہی تاکہ دشمن کے خلاف جارحیت قائم کی جا سکے۔ حالانکہ انھیں اس صورتحال کی توقع نہیں تھی۔
طریقوں سے مقصُود یہ تھا کہ جنگ میں بے حسی سے دوسرے انسانوں کو قتل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
امریکی فوج کے میجر ایف ڈی جی ولیمز نے لکھا: ’ان (جنرل مارشل) کے خیالات نے پذیرائی حاصل کی لیکن پھر بھلا دیے گئے۔ درحقیقت مارشل کے مشاہدات اور تجاویز کئی بہتریوں کا باعث بنیں۔
لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ میں ہر کوئی مارشل کے کام سے متفق نہیں تھا اور شدید تنقید سے ان کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔
مارشل نے اپنے نتائج کی حمایت میں کوئی شماریاتی تجزیہ بھی نہیں پیش کیا۔
کنیڈین مصنف رابرٹ انجن کے مطابق ’یہ ممکن ہے کہ فائرنگ کے تناسب کے اعداد و شمار جنگ سے متعلق مارشل کے نظریات کی وجہ سے من گھڑت ہو۔‘
’مارشل نے جنگی تاریخی میں بہت اچھا کام کیا ہے۔ لیکن وہ علمی سطح پر دور اندیش نہیں تھے اور انھوں نے وہی دیکھا جو وہ دیکھنا چاہتے تھے۔‘
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے کچھ دعوے عملی طور پر غلط تھے۔ جیسے کہ ان کا دعوی کہ انھوں نے جنگ عظیم اول میں فوجیوں کی سربراہی کی اور یہ کہ وہ پوری امریکی فوجی مہم میں سب سے جوان افسر تھے۔
انھیں سنہ 1919 میں افسر کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔ اور تب بھی انھوں نے صرف یورپ میں حصہ لیا جبکہ ان کا کام محض جنگ ختم ہونے پر فوجیوں کو واپس لانا تھا۔
ریٹائرڈ افسر بھی ناراض ہوئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
مارشل کے نظریے پر ان کی کمپنی کے ایک پرانے سارجنٹ کا کہنا تھا کہ ’کیا انھیں لگتا ہے ہم نے جرمنوں کو لاٹھیوں کی مدد سے موت کے گھاٹ اتارا؟‘
آج بھی معروف ذرائع مارشل کے 15 سے 20 فیصد اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہیں، باوجود اس کے کہ کئی سال پہلے یہ منتازع بن گئے تھے۔
لیکن کوئی اس کی اہمیت پر شک نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے دنیا بھر کے فوجیوں کو مؤثر انداز میں جنگ لڑنا سیکھایا۔

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے