ایک بار پھر مشروط مذاکرات کی پیش کش کر دی

ایک بار پھر مشروط مذاکرات کی پیش کش کر دی

اسلام آباد: شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان کو دو طرفہ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، کسی تیسرے فریق کی معاونت یا ثالثی کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا

شاہ محمود قریشی نے کہا اگر بھارت مقبوضہ کشمیر سے فوری کرفیو ہٹائے، لوگوں کے حقوق بحال کیے جائیں، قید کشمیری قیادت کو رہا کیا جائے اور ان سے ملنے کی اجازت دی جائے تو مذاکرات ہوسکتے ہیں۔
ایسے ماحول میں جہاں کرفیو نافذ ہے، لوگ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، گینگ ریپ ہو رہے ہیں، لوگ قید و بند کی صعبتیں برداشت کر رہے ہیں تو مذاکرات کا کوئی ماحول دکھائی نہیں دے رہا۔ ان کا کہنا تھا پاکستان نے کبھی جارحانہ پالیسی نہیں اپنائی اور اس کی ترجیح ہمیشہ امن ہی رہی کیونکہ جوہری ہتھیاروں کے حامل دو پڑوسی ممالک جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔

یہ بھی پڑھیں

سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم کو سینٹ میں قائد ایوان نامزد

سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم کو سینٹ میں قائد ایوان نامزد

اسلام آباد: چیرمین سینٹ کی جانب سے جلد ڈاکٹر شہزاد وسیم کو بطور سینٹ میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے