آسام میں سالوں سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف غم و غصے کا اظہار

آسام میں سالوں سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف غم و غصے کا اظہار

بھارت: آسام کی آبادی 3 کروڑ 30 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جس میں تقریباً 90 لاکھ بنگالی نسل کے لوگ بھی شامل ہیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جبکہ برطانوی دور اور 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کے وقت بھی کافی لوگ وہاں آکر آباد ہوئے

نریندر مودی کی سربراہی میں ہندو قوم پرست جماعت بھاتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی جانب سے شہریت کی فہرست جاری کرنے کے عمل کو ناقدین لاکھوں مسلمانوں کو بھارت سے بے دخل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی کی غریب ترین ریاست آسام میں سالوں سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا جاتا رہا تھا جس میں رہائشی ’غیر ملکیوں‘ پر نوکریاں اور زمین چھیننے کا الزام لگاتے تھے۔
آسام کئی دہائیوں تک بین المذاہب تنازعات اور نسلی کشیدگیوں کا مرکز بنا رہا اور بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات ہوئے جس میں 1983 میں ہونے والے فسادات بھی شامل ہیں جس کے نتیجے میں 2 ہزار افراد قتل ہوئے۔
چنانچہ این آر سی کی حتمی فہرست کے اجرا کے پیشِ نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی تھی جس کے تحت 60 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔
جن لوگوں کے نام حتمی فہرست میں شامل نہیں وہ 60 سے 120 روز میں غیر ملکی ٹریبونل میں اپیل کرسکتے ہیں۔
تاہم اس عمل میں اس قبل بھی خامیوں کا انکشاف ہوچکا ہے جس میں آسام سے تعلق رکھنے والے بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہی وزیر نے کہا تھا کہ اس فہرست میں متعدد اصلی بھارتیوں کو بھی درج نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے