احتساب ادارے (نیب) کو اب بھی ایل این جی معاہدے کو سمجھنے کے لیے وقت درکار ہے

احتساب ادارے (نیب) کو اب بھی ایل این جی معاہدے کو سمجھنے کے لیے وقت درکار ہے

اسلام آباد: استغاثہ نے شاہد خاقان عباسی کو عدالت میں پیش کرکے ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کی

شاہد خاقان عباسی نے وکیل نہ ہونے پر خود موقف پیش کرتے ہوئے جج سے استغاثہ کی درخواست قبول کرنے کا کہا۔
انہوں نے تنزیہ لہجے میں کہا کہ قومی احتساب ادارے (نیب) کو اب بھی ایل این جی معاہدے کو سمجھنے کے لیے وقت درکار ہے۔
شاہد خاقان عباسی پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ میں بطور وزیر پیٹرولیم 15 سال کے لیے ایل این جی ٹرمینل کا معاہدہ کرنے کا الزام ہے۔
نیب کی جانب سے اس کیس کو 2016 میں بند کردیا گیا تھا تاہم اسے 2018 میں دوبارہ کھولا گیا۔
دریں اثنا سابق وزیر قانون بیرسٹر ظفراللہ خان نے شاہد خاقان عباسی کی نمائندگی کے لیے اپنا وکالت نامہ جمع کرادیا۔
بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے جسمانی ریمانڈ کے دوران وکیل کرنے سے انکار کردیا لیکن جب عدالت انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجے گی تو انہیں وکیل کی ضرورت پڑے گی۔
ان کے مطابق سابق وزیر اعظم جسمانی ریمانڈ کے ختم ہونے کے بعد ضمانت کے لیے درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا نے گزشتہ سال فروری میں بھارتی جارحیت کا مظاہرہ دیکھا

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایل او سی پر حالیہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے