ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس نے قتل کے 4 ہزار 897 اور منشیات کے 7 ہزار 687 کا تیز ترین ٹرائل کر کے فیصلہ کیا

ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس نے قتل کے 4 ہزار 897 اور منشیات کے 7 ہزار 687 کا تیز ترین ٹرائل کر کے فیصلہ کیا

کراچی: ماڈل کورٹ کے ڈسٹرک اینڈ سیشن جج سہیل ناصر نے سب سے زیادہ 69 قتل کیسز کا فیصلہ کیا جس کے بعد قمبر شہداد کوٹ ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج غلام قادر تونیو نے 60 قتل کیسز کا فیصلہ کیا

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سیعد کھوسہ 167 میں سے 24 ماڈل کورٹس کے پریزائڈنگ افسران کو ضلعی سطح پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں کیسز کا فیصلہ کرنے پر اعزاز سے نوازیں گے۔
ملک کے اعلیٰ جج نے اپریل میں ماڈل کورٹس قائم کی تھیں تا کہ سیشن کورٹس میں زیر التوا رہنے والے سنگین جرائم پر مبنی کرمنل کیسز جلد از جلد نمٹائے جاسکیں۔
اسی طرح ماڈل کورٹ مردان کی ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج نادیہ سید نے قتل کے 55 کیسز کا فیصلہ کیا۔
دوسری کیٹیگری میں چارسدہ کی ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ارباب سہیل حامد نے منشیات کے سب سے زیادہ 135 کیسز جبکہ ملیر ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نوید احمد سومرو نے 132 کیسز اور میانوالی ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج راجہ محمد اجمل خان نے منشیات کے 118 کیسز کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں

طیارہ حادثہ ، ایئرٹریفک کنٹرولر شامل تفتیش

کراچی: پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے، ڈیوٹی پر موجود …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے