یہ تصویر تب وائرل ہوئی جب لوگوں نے اسے ’سٹیو جابز کراچی کے بوٹ بیسن پر نظر آئے

یہ تصویر تب وائرل ہوئی جب لوگوں نے اسے ’سٹیو جابز کراچی کے بوٹ بیسن پر نظر آئے

کچھ روز سے ایک ایسے شخص کی تصویر سوشل میڈیا پر گھوم رہی ہے جنھیں گزرے ہوئے کئر برس بیت گئے ہیں

لیکن اس کے باوجود کئی صارفین بضد ہیں کہ شلوار قمیض پہنے، سڑک کے کنارے پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھا یہ شخص اصل میں آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کے بانی سٹیو جابز ہیں!
یہ تصویر تب وائرل ہوئی جب لوگوں نے اسے ’سٹیو جابز کراچی کے بوٹ بیسن پر نظر آئے‘ یا ’دیکھو سٹیو جابز ایف-10 میں بیٹھے چائے پی رہے ہیں‘ جیسی سرخیوں کے ساتھ شیئر کیا۔
لیکن اس سے پہلے یہی تصویر مشرقِ وسطیٰ میں وائرل ہو چکی تھی۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور ریڈیٹ سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر یہ تصویر سنیچر کے روز ہی گردش کرنا شوع ہوئی تھی اور تقریباً تین دن بعد پاکستانی صارفین کے ہتھے چڑھی۔
تو کیا یہ تصویر واقعی پاکستان میں کھینچی گئی تھی اور کیا سٹیو جابز واقعی زندہ ہیں؟
بالکل نہیں۔ کچھ اشارے اس تصویر میں ہی موجود ہیں۔
غور سے دیکھا جائے تو اس شخص کا لباس پاکستانی نہیں، عربی ہے۔ انھوں نے شلوار قمیض نہیں بلکہ عربی توب زیب تن کیا ہوا ہے۔
یہ تصویر مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ایک مشہور کیفے کے باہر کھینچی گئی۔
امریکی کمپنی ایپل کے سابق چیف ایگزیکیٹو اور اس کے شریک بانی سٹیو جابز چھپن سال کی عمر میں 6 اکتوبر 2011 کو انتقال کر گئے تھے۔
سٹیو جابز اور سٹیو ووزنیاک نے پہلی مرتبہ سلیکون ویلی میں ایپل کا آغاز کیا۔ سٹیو جابز نے اس کے لیے اپنی گاڑی بیچ دی۔ ان کا پہلا کمپیوٹر انیس سو چھہتر میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔ ایپل انیس سو اسی میں مقبول ہوا اور اس نے سٹیو جابز کو کروڑ پتی بنا دیا۔ دو برس بعد ایپل کی فروخت ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
انیس سو چھیاسی میں انھوں نے NeXT کے نام سے نئی کمپنی بنائی۔ اس کا پہلا کمپیوٹر تین سال بعد ساڑھے چھ ہزار ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔ جابز نے انیس سو ستانوے میں ایک مرتبہ پھراس وقت ایپل میں شمولیت اختیار کی جب ایپل نےNeXT کمپنی کو ہی چار سو تیس ملین ڈالر میں خرید لیا۔

یہ بھی پڑھیں

طالبان سے جنگ بندی افغان حکام نے سیکڑوں مزید طالبان قیدیوں کو رہا کردیا

طالبان سے جنگ بندی افغان حکام نے سیکڑوں مزید طالبان قیدیوں کو رہا کردیا

بگرام: کشیدگی میں یہ وقفہ تقریبا 19 سال کی جنگ میں دوسری مرتبہ سامنے آیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے