اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ایسی صورتحال ہو گی تو ہم یہاں آتے ہی نہیں

اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ایسی صورتحال ہو گی تو ہم یہاں آتے ہی نہیں

کراچی: محمد اکرم کراچی میں اپنی خالہ سے ملنے آئے تھے جو گودھرا کیمپ کے علاقے میں رہتی ہیں مگر جس ٹرین میں وہ کراچی پہنچے وہ تعطل سے قبل آنے والی آخری ٹرین ثابت ہوئی

 

اکرم کا کہنا ہے کہ انھیں کراچی کا ہی ویزہ ملا تھا جس کے بعد وہ اپنے تمام رشتے داروں کے پاس گئے مگر اب وہ واپس جانا چاہتے ہیں۔
’میری والدہ، والد چارپائی پر ہیں، ان کا خیال کرنے والا اور کوئی نہیں ہے، میرے دیگر بھائی شادی شدہ ہیں وہ الگ رہتے ہیں۔ میرے ویزے کی معیاد پانچ ستمبر کو ختم ہو جائے گی۔ مجھے بس پاکستان سے انڈیا واپس جانا ہے۔‘
محمد اکرم کے مطابق جب وہ پاکستان پہنچے تو اس وقت انھیں کشیدگی کا علم ہوا۔ ’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ایسی صورتحال ہو گی تو ہم یہاں آتے ہی نہیں۔
محمد اکرم پانچ افراد کے ہمراہ پاکستان آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی حکام اور انڈین ہائی کمشنر کوئی مدد نہیں کر رہا ہے، کوئی ہمیں بتا نہیں رہا کہ ہماری واپسی کیسے ہو گی‘۔
خدیجہ بی بی ہر سال ایک مہینہ پاکستان میں گزارتی ہیں۔ پاکستان میں ان کی پھوپھی اور خالہ رہتی ہیں، وہ غیر شادی شدہ ہیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا ’اگر واپس انڈیا نہیں جا سکے تو کیا ہوا پاکستان میں ہی رہ جائیں گے۔‘
گودھرا میں گجراتی کمیونٹی ریڑھی سے لے کر چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہے۔ اکثر گھر دو یا ڈیڑھ کمرے پر مشتمل ہے۔
ایک ایسے ہی گھر میں افضا بی بی سے ملاقات ہوئی جو پہلی بار پاکستان آئی ہیں اور اس دورے کی وجہ ن کے ماموں کے گھر میں شادی کی تقریب بنی۔
افضا بی بی کے تین بچے ان کی واپسی کے منتظر ہیں جن کی عمریں نو سال سے تین سال کے درمیان ہیں۔
بوڑھی والدہ بچوں کو سنبھال رہی ہیں اور اب زیادہ وقت گزرنے سے انھیں دشواری ہو رہی ہے۔
افضا کے شوہر رمضان بھی ان کے ہمراہ آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ٹرین میں 165 کے قریب لوگ آئے تھے سب ہی یہاں واپسی کے لیے پریشان ہیں۔
’وہاں سے نکلے تھے تو حالات نارمل تھے۔ بعد میں گاڑیاں بند ہو گئیں۔ ہم جس گاڑی میں آئے وہ آخری تھی اب یہاں سے کوئی جانے والی اور وہاں سے کوئی آنے والی گاڑی نہیں ہے۔‘
پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگوں کے باوجود بھی کئی خاندان رشتے داریوں کو نبھاتے ہوئے آ رہے ہیں پھر چاہے کراچی کے مسلمان ہوں یا تھرپاکر، عمرکوٹ اور سانگھڑ کے ہندو خاندان۔
بٹوارے کے وقت دونوں ممالک کی ریاستوں خاص طور پر سندھ، راجستھان اور گجرات میں کئی خانداوں کا بھی بٹوراہ ہوا۔
آج بھی کئی لوگ اپنی جائے پیدائش، والدین کے گھر دیکھنے کی حسرت، شادی بیاہ کی تقریبات اور آخری رسومات میں شرکت کی خواہش رکھتے ہیں۔
پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی کی وجہ سے یہ خاندان سماجی اور ثقافتی طور پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
پاکستان میں سرحدی اضلاع تھر پارکر، عمرکوٹ اور سانگھڑ کا ویزہ مل جاتا ہے تاہم انڈیا کی جانب سے باڑمر،بھج، جیسلمیر اور پالن پور کے ویزہ نہیں دیے جاتے۔ اس میں حالیہ اضافہ گودھرا گجرات کا ہے۔ کئی بار دو تین کلو میٹر کا فاصلہ 200 کلو میٹر کا سفر بن جاتا ہے۔
محمد الیاس کا ننھیال گودھرا گجرات میں ہے وہ گذشتہ چار سالوں سے وہاں نہیں جا سکے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ والدہ شادی کر کے یہاں کراچی آ گئیں جبکہ ان کے ماموں، خالہ اور چچا سب انڈیا میں ہیں۔ پاکستان میں ان کا کوئی نہیں صرف بہن بھائی ہیں۔
’ہمارے تعلقات سالوں سے ہیں۔ مل جل کر رہیں گے تو اچھی بات ہے دونوں ملکوں کی بنی رہے گی تو کاروبار بھی اچھا ہو گا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی ٹرین سروس معطل ہوئی ہو۔
سمجھوتہ ایکسپریس شملہ معاہدے کی روشنی میں سنہ 1976 میں شروع کی گئی تھی اور پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی اور اندرونی حالات کی وجہ سے کئی بار معطل ہو چکی ہے۔
سنہ 1980 کی دہائی میں انڈین پنجاب میں ایمرجنسی کی صورتحال کی وجہ سے اس کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔
سنہ 2002 میں انڈین پارلیمان معطلی کی وجہ سے سمجھوتہ ایکسپریس بند رہی۔
اس کے علاوہ فروری سنہ 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے، دسمبر سنہ 2007 میں بینظیر بھٹو کے قتل اور رواں سال فروری میں پلوامہ اور بالاکوٹ کے واقعات کے بعد بھی ریلوے سروس معطل کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

سندھ اسمبلی کی ایک اور رکن میں کورونا کی تصدیق

سندھ اسمبلی کی ایک اور رکن میں کورونا کی تصدیق

کراچی: نماز جمعہ کے وقفے کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغاسراج درانی کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے