سیرولوجی لیبارٹری قائم جہاں ایک ماہ میں 100 تجزیات کیے جاسکتے ہیں

سیرولوجی لیبارٹری قائم جہاں ایک ماہ میں 100 تجزیات کیے جاسکتے ہیں

کراچی: سندھ میں اپنی نوعیت کی پہلی اور پاکستان میں دوسری فارنسک لیبارٹری ہے جسے جمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ میں قائم کیا گیا ہے، یہ منصوبہ سندھ فارنسک اتھارٹی کا حصہ ہے، اس کے لیے سپریم کورٹ نے بھی احکامات جاری کیے تھے

سندھ حکومت نے گزشتہ سال آئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی کے تحت چلنے والے جدید ادارے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر کو 22 کروڑ روپے جاری کیے تھے اور اس کی تعمیر میں بین الاقوامی مرکز سے منسلک اداروں کا مالی تعاون بھی شامل ہے، یہ لیب جدید سائنسی آلات سے مزین ہے جہاں ایک ماہ میں 100 تجزیات کیے جاسکتے ہیں اور ایمرجسنی کی صورت میں دوسری قومی تجربہ گاہوں سے بھی مدد لی جاسکے گی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس فیصل عرب بھی اس لیب کا جائزہ لے کر اطمینان کا اظہار کرچکے ہیں، اس لیبارٹری کی مدد سے دہشت گردی اور ریپ جیسے جرائم میں ملوث افراد کی شناخت میں مدد ملے گی، ڈی این اے ایک طاقت ور ثبوت کے طور پر قانونی تحقیقات میں معاون ہوتا ہے، پولیس اہلکاروں اور تفتیشی حکام کو اس عنوان سے تربیت بھی فراہم کی گئی ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا جس میں سب سے اہم شواہد کی جائے وقوعہ سے لیب تک سائنسی انداز میں منتقلی شامل ہے۔
اس لیبارٹری کا موازنہ دنیا کی کسی بھی فارنسک لیب سے کیا جاسکتا ہے۔ ایک سوال پر پروفیسر اقبال چوہدری کا کہنا تھا کہ سندھ بھر سے خود نمونے اکھٹے کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس مقصد کے لیے پولیس اہلکاروں کو تربیت فراہم کی گئی ہے اور تربیت کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا، نجی طور پر اس لیبارٹری کی مدد حاصل کرنے کے لیے کچھ شرائط رکھی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تجزیے کے اخراجات حکومت سندھ برداشت کرے گی، ڈی این اے شناخت کا سب سے جدید طریقہ ہے، تجزیے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، گھنٹوں میں نتیجہ نہیں مل سکتا، جھلسی ہوئے شخص کی بھی ڈی این اے سے شناخت ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں

طیارہ حادثہ ، ایئرٹریفک کنٹرولر شامل تفتیش

کراچی: پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے، ڈیوٹی پر موجود …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے