سندھ اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعہ فریال تالپور کو اجلاس میں نہ لانے پر تشویش

سندھ اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعہ فریال تالپور کو اجلاس میں نہ لانے پر تشویش

کراچی: صفائی مہم کے نام پر ایسی سیاست شروع ہو چکی ہے جس میں وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتیں بھی ملوث ہو چکی ہیں لیکن کراچی پر ابھی تک مچھروں اور مکھیوں کی یلغار جاری ہے

سیاسی بے یقینی کا سندھ میں خاتمہ نہیں ہو رہاہے کیونکہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہیں ۔اس ماحول میں سندھ اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جو موجودہ اسمبلی کا دوسرا طویل ترین سیشن ہے۔
سندھ میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کاکہنا یہ ہے کہ نیب کی تحویل میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو اجلاس میں لانے کے لیے اسمبلی کو سیشن میں رکھا جا رہا ہے۔ ایک دن کے اجلاس پر چالیس سے 50 ہزار روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ نیب کی تحویل میں اسپیکر اسمبلی آغا سراج درانی کی رہاش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا ہے اور وہ مسلسل اجلاس میں آ رہے ہیں جبکہ فریال تالپور کو اجلاس میں نہیں لایا جا رہا ہے
گذشتہ ہفتے سندھ اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعہ فریال تالپور کو اجلاس میں نہ لانے پر تشویش کا اظہار کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ پروڈکشن آرڈر پر رکن اسمبلی کو اجلاس میں لانا ضروری ہے۔ پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ قرار داد کی منظوری کے باوجود فریال تالپور کو اسمبلی میں نہیں لایا جا رہا ۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنما آصف علی زرداری کو علاج کی مطلوبہ سہولتیں مہیا نہ کرنے پر احتجاج کر رہے ہیں ۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا یہ ہے کہ آصف علی زرداری کے قتل کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ صورت حال سندھ میں سیاسی بے چینی کو بھی جنم دے رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر میں پٹرول نایاب ہوگیا

قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر میں پٹرول نایاب ہوگیا

کراچی: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے