پولیو پروگرام کی درخواست پر پروپیگنڈہ کرنے والے 31 فیس بک اکاؤنٹس اور پیجز بلاک

اسلام آباد: وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو مہم بابر بن عطا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ افواہ منظر عام پر آنے کےے بعد پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچی کا پوسٹ مارٹم ہونے کا انتظار کیا

سوشل میڈیا پر ایک منظم اور گمراہ کن مہم کا آغاز کردیا گیا جس میں لوگوں کو کہا گیا کہ بچی کی موت پولیو ویکسین کے سبب ہوئی لہٰذا اپنے بچوں کو پولیو ویکسین نہیں پلائیں۔
’بچی کی موت گلے میں مونگ پھلی کا دانہ پھنسنے کے باعث دم گھٹنے کے سبب ہوئی، جس کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہم نے فیس بک سے رابطہ کیا اور باضابطہ طور پر ان کے اکاؤنٹس کے خلاف مہم کا آغاز کیا گیا جو ویکسین کے خلاف پروپیگنڈے میں شامل تھے‘۔
انہوں نے بتایا کہ ایک گھنٹے کے اندر فیس بک نے وہ تمام اکاؤنٹس اور پیجز بلاک کردیے جو اس گمراہ کن مہم میں شامل تھے۔
ہم تعاون کرنے پر فیس بک کے شکر گزار ہیں اس کے ساتھ ہم نے پولیو ٹیم کے اراکین کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لیا کہ انہیں پولیو کی حمایت میں پوسٹس اسن لوگوں کے ساتھ شیئر کرنی چاہییں جو اس مہم کے باعث بچوں کو ویکسین پلانے سے گریزاں ہیں۔رواں برس اب تک پولیو کے 58 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 2018 میں صرف 12 کیسز اور 2017 میں صرف 8 پولیو کہیسز سامنے آئے تھے۔
اس سال اب تک سب سے زیادہ کیسز خیبرپختونخوا اور اس کے قبائلی اضلاع میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 44 ہے جبکہ پنجاب اور سندھ میں 5،5 اور بلوچستان میں4 پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں۔
دنیا میں اب صرف 2 ممالک ایسے بچے ہیں جہاں پولو کیسز اب بھی سامنے آرہے ہیں جو افغانستان اور پاکستان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ایس او پیز پر عمل اور احتیاط کریں ، آپ محفوظ رہیں گے

اسلام آباد: وزیراعظم نے کہا ہے کہ کورونا جانے والا نہیں، ویکسین کی تیاری تک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے