دفاع کا موقف سننے کے بعد مریم نواز کی تعیناتی کے خلاف پٹیشن پر فیصلہ محفوظ کیا تھا

دفاع کا موقف سننے کے بعد مریم نواز کی تعیناتی کے خلاف پٹیشن پر فیصلہ محفوظ کیا تھا

اسلام آباد: پٹیشن گزشتہ سال مئی میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قانون ساز فرخ حبیب، ملیکا بخاری، کنول شوزاب اور جویرہ سمیت دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مریم نواز کو عدالت نے 6 جولائی 2018 کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کیے گئے

مسلم لیگ (ن) کی رہنما نے ای سی پی سے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی تھی اور موقف اپنایا تھا کہ آئین اور الیکشن ایکٹ میں سزا یافتہ شخص پر پارٹی کے نائب صدر ہونے کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ خان نے پٹیشن پر اعتراض کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ ای سی پی قومی سطح پر انتخابات کرانے کا ذمہ دار ہے، پارٹی انتخابات کا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مریم نواز کو پارٹی کے نائب صدر کے عہدے پر منتخب نہیں کیا گیا ہے، ان کی سلیکشن سے کسی بھی درخواست گزار کے حقوق مجروح نہیں ہورہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘مریم نواز کو پارٹی کے آئین کے مطابق عہدہ دیا گیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کا آئین ای سی پی سے منظور شدہ ہے’۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے کیس میں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 اور 63 کا استعمال کرتے ہوئے انہیں پارٹی میں عہدہ رکھنے سے نا اہل قرار دیا اور یہی چیز مریم نواز کے لیے بھی استعمال کی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں

سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم کو سینٹ میں قائد ایوان نامزد

سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم کو سینٹ میں قائد ایوان نامزد

اسلام آباد: چیرمین سینٹ کی جانب سے جلد ڈاکٹر شہزاد وسیم کو بطور سینٹ میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے