معاہدے کے مطابق امریکا، افغان حکومت اور اس کی فورسز کی مدد نہیں کرے گا

معاہدے کے مطابق امریکا، افغان حکومت اور اس کی فورسز کی مدد نہیں کرے گا

امریکا : زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ‘رائٹرز کی رپورٹ میں 2 نامعلوم طالبان رہنماؤں کے حوالے سے کہا گیا کہ معاہدے کے مطابق امریکا، افغان حکومت اور فورسز کی مدد بند کردے گا، جس میں صداقت نہیں’۔

کسی کو بھی حق حاصل نہیں کہ وہ اشتہارات کے ذریعے کسی کو بھی دھمکی دے یا دھوکہ دے۔
امریکی نمائندہ خصوصی کا اس ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ‘میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم اب افغان فورسز کا دفاع کررہے ہیں اور ہم طالبان سے معاہدے کے بعد اسے جاری رکھیں گے’۔
تمام گروہوں نے تسلیم کیا ہے کہ افغانستان کا مستقبل افغانستان میں اندرونی مذاکرات کے ذریعے طے کیا جائے گا۔
طالبان کمانڈرز میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ‘امکان ہے کہ معاہدہ اس ہفتے میں طے پاجائے گا، جس کے تحت افغان فورسز کی فضائی مدد کرنے والی امریکی فضائیہ، طالبان پر حملے نہیں کرے گی اور جنگجو امریکی فورسز پر حملے نہیں کریں گے’۔
مذکورہ طالبان کمانڈر نے بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا تھا کہ معاہدے کے تحت امریکا، افغان حکومت کی حمایت بھی ترک کردے گا، ‘معاہدے کے بعد جنگجوؤں کے ساتھ جنگ میں امریکا، افغان حکومت اور ان کی فورسز کی مدد کے لیے نہیں آئے گا’۔
طالبان کمانڈر نے ان رپورٹس کو مسترد کیا جن میں کہا جارہا تھا کہ امریکی مذاکرات کار طالبان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ کابل کی حکومت سے مذاکرات کریں اور جنگ بندی کا اعلان کریں۔
طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ ‘ہم افغان حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے اور طاقت کے ذریعے اقتدار حاصل کریں گے’۔

یہ بھی پڑھیں

چینی عدالت نے پاکستانی طالبعلم کو قتل کرنے والے شہری کو سزائے موت سنادی

چینی عدالت نے پاکستانی طالبعلم کو قتل کرنے والے شہری کو سزائے موت سنادی

بیجنگ: عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کہ کونگ کو ایک بالغ شخص ہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے