حکومت نے ہمیں 29 اگست کو پولیو کے حوالے سے جائزاتی اجلاس میں مدعو نہیں کیا

حکومت نے ہمیں 29 اگست کو پولیو کے حوالے سے جائزاتی اجلاس میں مدعو نہیں کیا

پشاور: پورے صوبے میں ویکسین مہم کا آغاز کرنے کی کوئی تُک نہیں بلکہ ضرورت یہ ہے کہ وائرس کے ذخیروں کو پہلے الگ کیا جائے، جس کے بعد ان علاقوں پر توجہ دی جائے جہاں وائرس موجود نہیں

بنوں ڈویژن پر خصوصی توجہ دینی چاہیے لیکن اس میں بچوں کے ڈاکٹر اور تکنیکی لوگ شامل ہوں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی ٹیکوں کے لیے تربیت، آگاہی اور تیاری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں لیکن حکومت لوگوں کے دروازوں پر دستک دینے والے پرانے طریقوں پر عمل کررہی ہے۔
حتیٰ کے ڈاکٹرز بھی ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا انہیں اپنے بچوں کو اورل پولیو ویکسین (او پی وی) پلانی چاہیے، ویکسین پولیو سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہے لیکن جس طرح یہ پلائی جارہی ہیں وہ طریقہ کار مناسب نہیں۔
حکومت جس عملے کو رابطوں کے لیے مقرر کرتی ہے وہ ناتجربہ کاری کے باعث لوگوں کی جانب سے اورل پولیو ویکسین کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے تسلی بخش جوابات نہیں دے پاتے۔
پروفیسر گوہر رحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ لوگ سوال کرتے ہیں ویکسین پلانے والے ان کے دروازوں پر کیوں آتے ہیں کیوں کہ پولیو سے صرف معذوری ہوتی ہے جبکہ مہلک بیماریوں کے لیے مفت علاج دستیاب نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی بہتر صحت کے لیے ویکسینیٹرز اور عوام کے درمیان رابطے کے فقدان کو دور کیا جانا چاہیے اور جامع حکمت عملی کے ذریعے ہم ویکسین پلانے سے انکار پر قابو پاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

انسپکٹر جنرل آف پولیس کو 3 روز کے اندر ان حراستی مراکز کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت

انسپکٹر جنرل آف پولیس کو 3 روز کے اندر ان حراستی مراکز کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت

پشاور: ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمدسیٹھ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے